اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):پاکستان نے پاسپورٹ خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اصولی اور مکمل طور پر الیکٹرانک پاسپورٹ (ای پاسپورٹ) نظام پر منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جمعہ کو وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ای پاسپورٹ نظام پر مکمل منتقلی سے سفری دستاویزات میں جعلسازی اور دھوکہ دہی کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی۔اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے پاسپورٹ نظام کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانے اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔اجلاس میں
پاسپورٹ کی پریمیم سروسز کے لیے نئی فیسوں کے ڈھانچے کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت درخواست گزاروں سے ان خدمات کی اصل لاگت کے مطابق فیس وصول کی جائے گی۔شہریوں کی سہولت کے لیے ملک کے اندر اور بیرون ملک پاسپورٹس کی ہوم ڈیلیوری سروس کے آغاز کی تیاریوں کو بھی مکمل قرار دیا گیا۔ یہ سروس جلد شروع کی جائے گی، جس کے بعد شہری پاسپورٹ دفاتر سے وصولی کے بجائے اپنی رہائش گاہ پر پاسپورٹ حاصل کر سکیں گے۔اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ یکم جولائی سے ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں کیش لیس ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس سے شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ ملے گا۔حکومت نے آن لائن پاسپورٹ درخواستوں کو بھی پاک آئی ڈی پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ درخواستوں کے اندراج اور پراسیسنگ کا عمل مزید مربوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس میں مجوزہ بزنس پاسپورٹ پالیسی پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مشاورت کے بعد اس پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے جاری اصلاحات، انتظامی بہتری اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔حکومت کے حالیہ اقدامات کو عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور شہریوں کو تیز، محفوظ اور آسان پاسپورٹ سہولیات کی فراہمی کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
