اقوام متحدہ۔ (نمائندہ خصوصی):پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ یمن میں امن اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرے گا، جو اس وقت سیاسی، سکیورٹی اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن کی صورتحال پر بحث کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے کشیدگی کے خطرات اور سفارت کاری کی اہمیت دونوں کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا امریکا ایران امن معاہدہ علاقائی کشیدگی کم کرنے اور استحکام کو فروغ دینے کا ایک خوش آئند موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ پاکستانی مندوب نے امید
ظاہر کی کہ یہ مثبت پیش رفت پورے خطے میں اثر انداز ہوگی اور یمن میں امن اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے بہتر ماحول فراہم کرے گی تاکہ یمنی عوام استحکام اور ترقی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یمن کو اب بھی سیاسی، اقتصادی اور انسانی سطح پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ 2014 سے یمنی حکومتی افواج، جنہیں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی حمایت حاصل ہے اور حوثی باغیوں کے درمیان ملک پر مکمل کنٹرول کے لیے جنگ جاری ہے۔بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت بنیادی طور پر عدن میں قائم ہے جبکہ حوثی تحریک، جسے رسمی طور پر انصار الله کہا جاتا ہے، دارالحکومت صنعا اور شمالی و مغربی علاقوں کے بڑے حصے پر قابض ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف محاذوں پر بڑے پیمانے کی لڑائی اور تجارتی جہازوں پر حملوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کشیدگی میں کمی ممکن ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں، یمنیوں کی قیادت اور ملکیت میں ہونے والے سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے جو تمام یمنی عوام کی جائز خواہشات کو پورا کرے اور ان کے خدشات کو دور کرے ۔انہوں نے کہا کہ پریزیڈینشل لیڈر شپ کونسل اب بھی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت ہے۔مزید برآں، جنوبی یمن کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے تجویز کردہ ’’سائوتھ ڈائیلاگ ‘‘ ایک بروقت اور تعمیری اقدام ہے جو امن کی کوششوں میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود مختلف علاقائی اور مقامی فریقین کے ساتھ رابطے برقرار رکھنا اور مذاکرات کے لیے سیاسی گنجائش محفوظ رکھنا ایک اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ بے شمار چیلنجز کے باوجود یمن دوبارہ بڑے پیمانے کی جنگ کی طرف نہیں لوٹا۔ اسی سلسلے میں تقریباً 1,600 قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے تمام عملے کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔پاکستانی مندوب نے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں یمنی اب بھی امداد پر انحصار کر رہے ہیں جبکہ مالی وسائل کی کمی، اقتصادی مشکلات اور عوامی خدمات کی گرتی ہوئی صورتحال عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس نازک مرحلے پر انسانی امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور اقتصادی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔

