کراچی (نمائندہ خصوصی): سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کو 12 سال مکمل ہونے پر پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کراچی کے زیرِ اہتمام صوبائی سیکرٹریٹ گلشن اقبال کراچی میں ایک اہم سیمینار بعنوان "سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ہمارا نظامِ انصاف” منعقد کیا گیا۔سیمینار میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی، قانون
کی بالادستی اور ملکی نظامِ انصاف میں درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ملکی تاریخ کا ایک المناک اور سیاہ باب قرار دیتے ہوئے 14 بے گناہ شہریوں کے قتل کے مقدمے میں فوری اور غیر جانبدار انصاف کا مطالبہ کیا۔پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر قاضی زاہد حسین نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ سانحہ
ماڈل ٹاؤن کو12 سال گزر جانے کے باوجود متاثرین کو انصاف نہ ملنا ہمارے نظامِ انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اسی وقت ممکن ہے جب سانحہ کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔سیمینار سے مسعود احمد عثمانی، عصمت اللہ خان، راؤ کامران محمود، عتیق احمد چشتی،
سید ظفر اقبال، نوید عالم، پرویز اقبال ارائیں (الشریف فاؤنڈیشن)، صوفی وقار علی اور عدنان رؤف انقلابی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے شہداء ماڈل ٹاؤن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ انصاف کے بغیر کسی بھی معاشرے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کا تصور ممکن نہیں۔سیمینار میں محمود
میمن، اسماعیل خلیل عارفی، اشرف قیصر ایڈووکیٹ، اصف اللہ رکھا، نعیم میمن سمیت وکلاء، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے درجاتِ بلندی، متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر و استقامت اور ملک میں حقیقی انصاف کے قیام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔




