کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) تمباکو کی مصنوعات صحت اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہیں، موجودہ اور آنے والی نسلوں کو تمباکو کی مصنوعات کے نقصانات سے بچانا اجتماعی ذمہ داری ہے،ان خیالات کا اظہار رکن بلوچستان اسمبلی ۔بلوچستان نیشنل پارٹی ویمن ونگ کی صدر اور ایمان پاکستان ٹرسٹ کی چیئرپرسن محترمہ فرح عظیم شاہ نے عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا محترمہ فرح عظیم شاہ نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو نشے کی لت لگانے والوں اور موت کے سوداگروں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کےلئے قانون سازی اور موثر نفاذ ضروری ہے ۔تمباکو کے صحت کے لیے نقصانات کی طرف پہلی بار توجہ مبذول کرانے والی ابتدائی تحریروں کو اب لگ بھگ چار سو سال گزر چکے ہیں۔کئی دہائیوں سے سائنسی اور طبی برادری میں اس بات پر پختہ
اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ تمباکو کی مصنوعات صحت اور معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قوانین اور آگاہی کے ذریعے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوامی صحت اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں ہر سال 70 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، جس میں سیکنڈ ہینڈ اسموک کا شکار ہونے والے تقریباً 16 لاکھ افراد کی اموات بھی شامل ہیں۔محترمہ فرح عظیم شاہ نے مزید کہا کہ اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ نوجوانوں میں کثیر متبادل منشیات ک استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات دیگر نقصان دہ اشیاء کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہیں، جو نوجوانوں اور معاشرے کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اس کے لیے مضبوط آگاہی، قوانین اور روک تھام کی کوششیں ناگزیر ہیں۔کم عمری میں نکوٹین کا استعمال عمر بھر کی محتاجی، صحت کے منفی نتائج اور مستقبل کے محدود مواقع کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ ہر طرف پھیلے ہوئے سیکنڈ ہینڈ اسموک کے باعث بچے دمہ، نمونیا، کان کے انفیکشن، پیدائشی کم وزن اور اچانک موت جیسے خطرات کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا اثر صرف صحت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ خاندانوں اور نظامِ صحت پر بھی ایک بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔محترمہ فرح عظیم شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تمباکو کی مصنوعات غیر متعدی امراض جیسے کہ دل کی بیماریاں، کینسر اور سانس کی دائمی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ یہ بیماریاں افراد اور خاندانوں کو ذاتی سطح پر شدید متاثر کرتی ہیں اور ہمارے اسپتالوں، کلینکس اور عوامی صحت کی خدمات پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہیں۔بہت سے گھرانوں کے لیے یہ اثر محض کتابی نہیں ہے۔ کمانے والے والدین کا بیمار ہونا، اسپتال کے بار بار چکر لگانا، طویل مدتی علاج کے اخراجات اور کمانے کی صلاحیت میں کمی، پہلے سے ہی محدود گھریلو وسائل کو تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ بچوں کے اسکول سے غیر حاضر رہنے سے لے کر معمول کے اخراجات کو پورا کرنے میں خاندانوں کو درپیش مشکلات تک یہ دباؤ روزمرہ کی زندگی میں محسوس کیا جاتا ہے۔

