• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں آبی حیاتیاتی تنوع خطرے سے دوچار

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مئی 31, 2026
in پاکستان
0
بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں آبی حیاتیاتی تنوع خطرے سے دوچار
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پشاور۔(نمائندہ خصوصی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا اور پنجاب میں آبی حیاتیاتی تنوع خطرے سے دوچار ہے جبکہ ماہی پرور بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے نصیر خان ماہی پروری کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ وہ اپنے مچھلیوں کے فارم پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے خدشات کے درمیان اپنے دن کے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ مچھلیوں کو خوراک دینے اور تالابوں کی دیکھ بھال کے روزمرہ کے معمولات کے ساتھ ساتھ ان کے ذہن پر ایک بڑھتی ہوئی تشویش کا گہرا بوجھ ہے کہ بھارت کی جانب سے 1960 کے تاریخی سندھ طاس معاہدے کی مسلسل معطلی کے پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہوں گے۔ اپنے پانچ کنال کے مچھلیوں کے فارم کے پاس کھڑے ہو کر نصیر نے کہا کہ مچھلیوں کی مقامی اقسام بالخصوص مہاشیر اور ٹراؤٹ کی افزائش کو برقرار رکھنے کےلیے پانی کا بلاتعطل بہاؤ انتہائی اہم ہے جو دریائے کابل کے پانی اور دریائے سندھ کے نظام کے گلیشیئرز سے آنے والے پانیوں میں افزائش کرتی ہیں۔قومی خبر رساں ادارے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مہاشیر کی فارمنگ کا انحصار دریا کے صاف اور مسلسل بہاؤ پر ہے۔ اگر مغربی دریاؤں پر بھارت کی جانب سے خلاف ورزیاں برقرار رہیں تو مچھلیوں کی افزائش کم ہو جائے گی جس سے اس کاروبار سے وابستہ ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے۔ نصیر کو خدشہ ہے کہ اگر پانی کا بہاؤ بے قاعدہ ہو گیا تو دریائے سندھ اور دریائے کابل میں پائی جانے والی مہاشیر، رہو اور مچھلیوں کی کئی دیگر مقامی اقسام کو خیبر پختونخوا اور پنجاب میں سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اقسام کی کمی سے نہ صرف ماہی گیر متاثر ہوں گے بلکہ مقامی لوگوں کےلیے غذائی تحفظ کے چیلنجز بھی پیدا ہوں گے جو پروٹین کے ایک سستے ذریعے کے طور پر مچھلی پر انحصار کرتی ہیں۔محکمہ ماہی گیری کے سابق ڈائریکٹر جنرل ایاز خٹک نے خبردار کیا کہ دریا کے ماحولیاتی نظام میں طویل مدتی خلل کی صورت میں مہاشیر اور ٹراؤٹ کی افزائش سب سے زیادہ خطرے سے دوچار اقسام میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی دریاؤں میں پانی کی دستیابی غیر یقینی ہو جاتی ہے تو ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے۔ خیبر پختونخوا بھر میں ہزاروں ماہی گیر، ماہی پرور، تاجر، ٹرانسپورٹرز اور دکاندار سال بھر بالخصوص شادیوں کے سیزن اور مذہبی تہواروں کے دوران مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کےلیے مہاشیر، رہو، کارپ اور ٹراؤٹ جیسی میٹھے پانی کی مچھلیوں کی اقسام پر انحصار کرتے ہیں۔ایاز خٹک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی مسلسل معطلی نے ان لوگوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جن کا ذریعہ معاش کافی حد تک دریا کے وسائل پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی محض ایک معاشی ذریعہ نہیں ہے، یہ براہ راست غذائی پیداوار، غذائیت اور ذریعہ معاش سے جڑا ہوا ہے۔دریاؤں کے ماحولیاتی توازن میں کوئی بھی خلل ماہی گیری، زراعت اور انسانی آبادی کےلیے دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی دستیابی میں کمی آزاد جموں و کشمیر، خیبر پختونخوا، پنجاب اور گلگت بلتستان میں مچھلیوں کی افزائش کے مقامات، ہجرت کے راستوں اور آبی حیاتیاتی تنوع کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہی گیری کے ماہرین کے مطابق پاکستان کا ماہی گیری کا شعبہ دیہی روزگار اور قومی آمدنی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ ایاز خٹک نے بتایا کہ پاکستان مچھلی اور سمندری غذا کی مصنوعات چین، تھائی لینڈ، ویتنام، متحدہ عرب امارات، جنوبی کوریا اور جاپان سمیت کئی بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹھے پانی کی مچھلیوں کی اقسام جیسے مہاشیر اور ٹراؤٹ کی کافی معاشی قدر ہے۔ان کی افزائش میں کسی بھی قسم کی کمی مقامی منڈیوں اور برآمدی مواقع دونوں کو متاثر کرے گی۔سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں مچھلی کی کل سالانہ پیداوار تقریباً 790,000 ٹن ہے جس میں سمندری ماہی گیری سے تقریباً 510,000 ٹن اور اندرون ملک ماہی گیری و ایکوا کلچر سے تقریباً 280,000 ٹن شامل ہے۔ یہ شعبہ قومی جی ڈی پی میں تقریباً 0.31 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ لوگوں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتا ہے۔پاکستان کے سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے درمیان 1960 میں دستخط کیے جانے والے سندھ طاس معاہدے کو طویل عرصے سے دنیا کے پائیدار ترین پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ معاہدے کے ڈھانچے کی کسی بھی کمزوری کے نتائج سفارتی تعلقات سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان نے پانی کے تحفظ کو قومی بقا کا معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غذائی تحفظ، ذریعہ معاش اور کروڑوں پاکستانیوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زراعت کا انحصار سندھ طاس کے آبپاشی کے نظام پر ہے۔ پانی کے بہاؤ کے حوالے سے کوئی بھی غیر یقینی صورتحال فصلوں، لائیوسٹاک، ماہی گیری اور بالآخر پوری معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ دریا کے بہاؤ میں خلل زرعی پیداواری صلاحیت کو کم کر سکتا ہے، ماہی گیری کے مسکنوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور پہلے سے کمزور دیہی لوگوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت نہ صرف گندم، چاول، گنے اور سبزیوں کو متاثر کرے گی بلکہ مچھلیوں کی ان اقسام کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے جو دریا کے مستحکم ماحولیاتی نظام پر انحصار کرتی ہیں۔ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا کہ مچھلیوں کی اقسام جیسے مہاشیر اور براؤن ٹراؤٹ پانی کے معیار، درجہ حرارت اور بہاؤ کے نمونوں میں تبدیلیوں کےلیے انتہائی حساس ہیں۔ ڈاکٹر ایاز نے کہا کہ مہاشیر آلودہ یا شدید متاثرہ آبی ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ اگر دریائے سندھ، جہلم یا چناب میں پانی کے بہاؤ کو روک دیا جائے یا اس میں نمایاں تبدیلی کی جائے تو افزائشِ نسل کے سرکل متاثر ہو سکتے ہیں جس سے ان اقسام کی ماہی کی آبادی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھنڈے پانی کی اقسام جیسے براؤن ٹراؤٹ، جو آزاد جموں و کشمیر اور شمالی پاکستان کے دریاؤں اور ندی نالوں میں رہتی ہیں، کو مستحکم درجہ حرارت اور پانی کی مسلسل دستیابی کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے بہاؤ میں اچانک کمی یا اتار چڑھاؤ انڈے دینے کے مقامات کو تباہ کر سکتا ہے اور مچھلیوں کی پوری آبادی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ماہرین نے آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کی طرف بھی اشارہ کیا جو پہلے ہی چارسدہ، نوشہرہ اور پشاور جیسے اضلاع میں دریا کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایاز خٹک نے کہا کہ جب آپ ایک دریا میں خلل ڈالتے ہیں تو آپ پورے ماحولیاتی سلسلے کو غیر مستحکم کر دیتے ہیں۔اس کے نتائج مچھلیوں کی آبادی سے لے کر پرندوں، جنگلی حیات، زراعت اور انسانی آبادیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پانی کے وسائل پر طویل المدتی غیر یقینی صورتحال غذائی پیداوار اور دیہی غربت سے متعلق موجودہ چیلنجوں کو شدید تر کر سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور آزاد جموں و کشمیر میں زرعی زمینیں آبپاشی کےلیے سندھ طاس کے نظام پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ آم، مالٹے، آڑو، کیلے اور تربوز پیدا کرنے والے پھلوں کے باغات بھی پانی کی مستحکم فراہمی پر منحصر ہیں۔ ان کسانوں، شہد کی مکھیاں پالنے والوں، مویشیوں کے مالکان اور ماہی گیروں کے لیے جو پہلے ہی پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، پانی کی دستیابی میں معمولی سا خلل بھی آمدنی کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ڈاکٹر اعجاز خان نے کہا کہ یہ محض ایک سفارتی تنازع نہیں ہے، اگر پانی کے وسائل تیزی سے غیر یقینی ہو جاتے ہیں تو یہ ایک وسیع تر غذائی تحفظ کے چیلنج میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں سے نکلنے والے اور گلیشیئرز سے بننے والے دریا پاکستان بھر میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو برقرار رکھتے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ پانی کے ان نظاموں میں کسی بھی طویل المدتی خلل سے زراعت، ماہی گیری اور کمزور دیہی لوگوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ صوابی کے نصیر خان جیسے ماہی پروروں میں تشویش بڑھ رہی ہے، پاکستان کے دریاؤں کے نظام پر انحصار کرنے والی آبادیاں صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں اور امید کر رہی ہیں کہ پانی کا بلاتعطل بہاؤ آئندہ نسلوں کےلیے ان کا ذریعہ معاش اور ملک کا قیمتی آبی حیاتیاتی تنوع دونوں کو محفوظ رکھے گا۔

پچھلی پوسٹ

تمباکو کے خطرات سے نسلوں کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، صدر آصف علی زرداری کا عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی پر پیغام

اگلی پوسٹ

تمباکو نوشی کسی بھی مہلک مرض سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے،مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
تمباکو نوشی کسی بھی مہلک مرض سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے،مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب

تمباکو نوشی کسی بھی مہلک مرض سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے،مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper