مکہ مکرمہ۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2026 کے کامیاب انعقاد اور پاکستان کو مسلسل دوسرے سال بین الاقوامی’’لبیتم ایکسی لنس ‘‘ اور پرائیوٹ حج سکیم کوتین ایوارڈ ملنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال بہترین انتظامات کی بدولت شکایات کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہا، روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ سے 80 فیصد عازمین نے فائدہ اٹھایا۔سعودی حکومت کی نئی ٹائم لائن کے تحت حج پالیسی 2027 رواں سال جون میں ہی وفاقی کابینہ میں پیش کر دی جائے گی جس میں ’’پہلے آؤ، پہلے پائو‘‘ کی پالیسی برقرار رہے گی ،اگلے دو ماہ میں نئے حج کی بکنگ مکمل ہونے کا امکان ہے، 2027 حج کے خواہشمند عازمین اپنے پاسپورٹ فوری تیار کروا لیں۔حج ایک مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے جس پر سیاست یا پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔ وہ اتوار کو پاکستان حج مشن مکہ مکرمہ میں پوسٹ حج پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان حج مشن عبدالوہاب سومرو، چیف کوارڈنیٹر مرزا علی محسود ، ڈائریکٹر حج مکہ محمد عارف اسلم رائو بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ وفاقی وزیر مذہبی
امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ حج 2026 کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔عازمینِ حج نے اپنے مناسک بخیر و عافیت ادا کیے۔ یہ کامیابی حکومتِ پاکستان، وزارتِ مذہبی امور، پاکستان حج مشن اور سعودی حکام کے مثالی تعاون کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے مطابق عازمین کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔ پاکستان حج مشن کی کارکردگی کو سعودی وزیر حج کی سربراہی میں بین الاقوامی فورم پر بھی سراہا گیا، جہاں پاکستان نے مسلسل دوسرے سال "لبیتم ایکسی لنس ایوارڈ” حاصل کیا، جو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ایک لاکھ 80 ہزار عازمین کوٹے کے ساتھ پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، رواں سال پرائیویٹ سیکٹر کو بھی بہترین کارکردگی پر تین ایوارڈز ملے۔وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ رہائش، ٹرانسپورٹ اور خوراک کے بہترین انتظامات کی وجہ سے امسال شکایات کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہا۔ روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کا دائرہ کار لاہور تک بڑھانے سے حج 2026 میں 80 فیصد عازمینِ حج نے فائدہ اٹھایا۔ مدینہ منورہ میں عازمین کے لیے مرکزیہ میں فائیو سٹار سے ون سٹار تک بہترین ہوٹل حاصل کیے گئے تھے۔وفاقی وزیر نے حج میڈیکل مشن اور سعودی جرمن ہسپتال کے تعاون کو سراہا، جنہوں نے خصوصی انتظامات کے تحت 146 شدید بیمار اور ضعیف حجاج کو وقوفِ عرفات اور طوافِ زیارت سمیت دیگر مناسک ادا کروائے۔وفاقی وزیر نے فیک نیوز اور مس انفارمیشن کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ حج 2026 میں بھی زمینی حقائق کے برعکس سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے کی کوشش کی گئی، تاہم مین سٹریم میڈیا نے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے رکھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حج سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس موقع پر پوائنٹ سکورنگ یا سیاست نہیں ہونی چاہیے کیونکہ سب خدمت کے جذبے سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے سعودی قیادت، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ اور سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ سعودی وزارتِ حج نے حج 1448ھ (2027) کی پالیسی اور ٹائم لائنز کا اعلان کر دیا ہے اور نئے سیزن کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ سعودی ڈیڈ لائن کے مطابق حج پالیسی 2027رواں سال جون میں وفاقی کابینہ میں پیش کر دی جائے گی، جس میں درخواستوں کی وصولی، پیکیج اور طریقہ کار طے ہوگا۔ آئندہ سال بھی ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘کی پالیسی لاگو رہے گی۔ امکان ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر حج 2027 کی بکنگ مکمل کر لی جائے گی، لہذا خواہشمند افراد ابھی سے اپنے پاسپورٹ بنوا لیں۔ہم مشائر مقدسہ میں بکنگ بروقت مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حج 2026 کے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں 2027 کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ رواں سال مدینہ سے مکہ ٹرین کے ذریعے سفر کا پائلٹ پراجیکٹ شروع نہیں ہو سکا تھا، تاہم حج 2027 کے لیے اس پر مزید کام کیا جائے گا۔ آئندہ سال بھی مسجد نبوی کے نزدیک ترین رہائشیں یقینی بنائی جائیں گی اور پرائیویٹ سیکٹر کو مزید فعال کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے مستقبل کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال عازمین کی میڈیکل فٹنس اور سکریننگ پر زیادہ توجہ دی جائے گی تاکہ صرف صحت مند عازمین کو ہی حج پر لایا جا سکے۔اس کے علاوہ، عازمین کی رہنمائی کے لیے گروپ ناظمین کا انتخاب بروقت کر کے انہیں تربیت کے مرحلے سے ہی مصروف رکھا جائے گا تاکہ وہ امورِ حج کو بہتر سمجھ سکیں۔ عازمینِ حج کی تربیت کا دائرہ کار حاجی کیمپوں سے بڑھا کر ڈویژن کی سطح تک لے جایا جائے گا تاکہ عازمین باآسانی تربیت حاصل کر سکیں۔آخر میں انہوں نے پوری قوم سے وطنِ عزیز کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کی درخواست کی۔

