اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر توانائی سرداراویس احمد خان لغاری نے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی سبسڈی کے خاتمے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مستحق صارفین کو ریلیف کی فراہمی جاری رکھے گی،توانائی شعبے میں اصلاحات، آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی اور تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کے باعث اربوں روپے کی بچت ہوئی ہےجس کے مثبت اثرات صارفین تک پہنچ رہے ہیں،رجسٹریشن اور کیو آر کوڈ نظام کے ذریعے سبسڈی کی شفاف اور مؤثر فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے جبکہ بجلی نرخوں میں کمی، قابل تجدید توانائی کے فروغ اور سولر نظام میں سہولتوں کے ذریعے عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاور سیکٹر سے متعلق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف ایشوز زیر بحث رہے، جن کے حوالے سے حقائق عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود فیصلہ کر سکیں کہ
پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات اور حکومتی اقدامات پر اعتماد کیا جانا چاہیے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بلوں پر دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات درج کی جا رہی ہیں اور صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بل ادا کرنے والے فرد کے شناختی کارڈ کو کیو آر کوڈ کے ذریعے میٹر کے ساتھ منسلک کریں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ ہو چکی ہے جبکہ ان صارفین کو سالانہ 527 ارب روپے کی رعایت دی جا رہی ہےجس میں 249 ارب روپے حکومت پاکستان اور 278 ارب روپے دیگر بجلی صارفین برداشت کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 3,500 ارب روپے کی مستقبل کی ادائیگیاں صارفین کے حق میں منتقل کی گئیں۔ بند پڑے بجلی گھروں کی غیر ضروری مشینری 47 ارب روپے میں نیلام کی گئی جبکہ ان اداروں کےملازمین کو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کےنقصانات میں ایک سال کے دوران 193 ارب روپے کی کمی لائی گئی اور گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی کی گئی۔سردار اویس لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن ماضی میں سالانہ 1,287 ارب روپے بجٹ سپورٹ حاصل کرتا تھا جو موجودہ مالی سال میں 890 ارب روپے تک محدود رہی جبکہ آئندہ بجٹ میں اس کی ضرورت 830 ارب روپے رہ جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دو سال کے دوران پاور سیکٹر نے قومی خزانے پر بوجھ 457 ارب روپے کم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراس سبسڈی میں کمی کے باعث صنعتی صارفین کے نرخ کم کئے گئے۔ ان کے مطابق مارچ 2024 میں گھریلو صارفین کے لیے اوسط نرخ 43 روپے 44 پیسے فی یونٹ تھے جو اب 36 روپے 35 پیسے رہ گئے ہیں جبکہ صنعتی نرخ 62 روپے 99 پیسے فی یونٹ سے کم ہو کر 42 روپے 40 پیسے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی 2025 میں پیدا ہونے والی 55 فیصد بجلی کلین انرجی پر مشتمل تھی جبکہ 2035 تک اس تناسب کو 90 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار 2025 میں 2.4 ارب ڈالر تھا جو 2035 تک کم ہو کر 0.3 ارب ڈالر رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال 9 ہزار میگاواٹ کی مجوزہ اضافی بجلی خریداری منصوبے ختم کر دیئے جس سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور مستقبل میں صارفین پر سالانہ 400 ارب روپے کا اضافی بوجھ رک گیا۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 4 روپے فی یونٹ اضافے سے بھی بچاؤ ممکن ہوا۔سردار اویس لغاری نے کہا کہ حکومت صرف ان منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے جن پر پہلے سے سرمایہ کاری ہو چکی ہے جن میں دیامر بھاشا، داسو، مہمند ڈیم اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی ٹرانسمیشن لائن کی لاگت حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ اس کا بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت نےبجلی خریداری کے روایتی نظام سے نکلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسابقتی مارکیٹوں کے قیام کو قانونی شکل دے دی ہے اور مستقبل میں حکومت بجلی خریداری کے کاروبار سے باہر رہے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں بلکہ اس کے فروغ کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ اورسولرائزیشن کی پالیسی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے متعارف کرائی ہے اور آج بھی ملک میں سولر توانائی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 50 ہزار میگاواٹ سولر صلاحیت صارفین اپنی سرمایہ کاری سے نصب کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کے باوجود درخواستوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے 118 ہیلپ لائن متعارف کرائی گئی ہے اور تمام شکایات کا باقاعدہ ریکارڈاورمانیٹرنگ کی جاتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال 23 لاکھ شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ رواں سال یہ تعداد 61 لاکھ تک پہنچ گئی جن میں سے 46 لاکھ مقررہ وقت کے اندر حل کی گئیں جبکہ 14 لاکھ 90 ہزار شکایات مقررہ مدت میں حل نہ ہو سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایک ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے مقامی افراد سے 80 ہزار روپے وصول کرنے کے واقعے پر سخت کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب پر یقین رکھتی ہے اور عوامی نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت صرف ان منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے جن پر پہلے سے سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جن میں دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم سمیت مختلف آبی منصوبے اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 5,255 میگاواٹ ہے اور ان سے حاصل ہونے والی بجلی صارفین کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کی آبی سلامتی کے لیے نہایت اہم منصوبہ ہے اور35۔ 2034 میں اس سے بجلی کی پیداوار شروع ہونے پر بھی صارفین کے ٹیرف میں اضافہ نہیں ہوگا،ٹرانسمیشن لائن کی لاگت حکومت خود برداشت کرے گی اور اسے صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجلی خریداری کے روایتی نظام سے نکلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسابقتی مارکیٹوں کے قیام کو قانونی شکل دے دی ہے اور مستقبل میں حکومت بجلی خریداری کے کاروبار سے باہر رہے گی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور گوادر میں سولرائزیشن منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے،25 کلو واٹ اور اس سے کم کے سولر منصوبوں کے لئے لائسسنگ شرط حتم کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قابل تجدید توانائی کا شیئر 57 فیصد تک ہے جبکہ بھارت کا قابل تجدید توانائی کا شیئر 48 فیصد تک ہے۔

