کراچی(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قائم مقام امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، سکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق وٹاؤن چیئرمینوں کے ہمراہ ہفتہ کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 250روپے فی لیٹر مقرر کی جائے، صنعتی بجلی 9 سینٹ فی یونٹ پر فراہم کی جائے، گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے اور ان نرخوں کو کم از کم تین سال کے لیے منجمد کیا جائے تاکہ صنعت، تجارت اور معیشت کو استحکام حاصل ہوسکے۔حکومت نے 22 روپے فی لیٹر کمی کی ہے، جبکہ موجودہ حالات میں فوری طور پر 122 روپے فی لیٹر
کمی کی جانی چاہیے۔ جنگی اور غیر معمولی معاشی حالات میں پیٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ لیوی ریفائنریوں کی استعداد بڑھانے کے لیے لگائی گئی تھی، لیکن آج تک اس مقصد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔جماعت اسلامی 3 جون کو اسلام آباد میں بجٹ کے حوالے سے اپنی جامع تجاویز پیش کرے گی۔ آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری ادائیگیاں بند کی جائیں۔ اس سال بھی قوم نے تقریباً 1800 ارب روپے ایسی بجلی کے ادا کیے جو پیدا ہی نہیں کی گئی۔حکومت پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر اپنی ناکامی کا جواب دے۔ چار سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود اس منصوبے پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ سال 605 ارب روپے ٹیکس دیا جبکہ جاگیردار طبقہ 12 ارب روپے بھی جمع نہیں کراسکا۔ آئندہ بجٹ میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ماہانہ آمدن والے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس عائد نہ کیا جائے اور دیگر تنخواہ دار افراد کو بھی اضافی بوجھ سے بچایا جائے۔ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوامی مفاد پر مبنی معاشی پالیسیوں، بااختیار بلدیاتی نظام، شفاف حکمرانی اور کرپشن کے خاتمے کی ضرورت ہے، اور جماعت اسلامی ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔کراچی کے مسائل کا واحد حل ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، جس کے باعث ٹاؤنز کو وہ کام بھی کرنا پڑرہا ہے جو ان کی ذمہ داری نہیں۔ کرپشن اور لوٹ مار نے پورے نظام کو مفلوج کردیا ہے۔پیپلز پارٹی خود کو جمہوریت پسند جماعت قرار دیتی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ 1971 میں اکثریتی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے سے لے کر کراچی کے موجودہ بلدیاتی انتخابات میں مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے تک اس جماعت نے ہمیشہ جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا ہے۔ کراچی کے عوام کے لیے مختص ہزاروں ارب روپے کے وسائل ضائع کردیے گئے لیکن شہر کے مسائل جوں کے توں ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی کے رضاکاروں نے اس سال بھی بڑے پیمانے پر قربانی کی کھالیں جمع کیں، جن کے ذریعے غریب، نادار اور مستحق افراد کی مدد کی
جاتی ہے۔ جماعت اسلامی عوامی خدمت، فلاحی سرگرمیوں اور دینی و سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ہمیشہ صفِ اول میں رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل مسلسل جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے فلسطینیوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ پوری طرح اسرائیل کی پشت پناہی کررہا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے احتجاج کرنے والوں کو مختلف طریقوں سے دبایا جاتا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر کراچی میں صفائی ستھرائی کا نظام انتہائی ناقص رہا۔ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی نے تمام اختیارات اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ کراچی اس وقت شدید پانی کے بحران کا شکار ہے اور نصف سے زائد شہر پانی کی قلت سے دوچار ہے۔ ٹینکر مافیا پوری طرح سرگرم ہے اور اسے حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم گزشتہ عام انتخابات میں کراچی سے ایک پولنگ بوتھ تک جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، لیکن انہیں درجنوں قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں دے دی گئیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے گٹھ جوڑ نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جب شہر کے اداروں پر قبضہ کیا جارہا تھا، اس وقت ایم کیو ایم حکومتوں کا حصہ تھی۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بندش اور کے ٹی سی بند کرنے کے وقت بھی ٹرانسپورٹ کی وزارت ایم کیو ایم کے پاس تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی کراچی کے لیے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا۔ گرین لائن منصوبہ 2016 میں شروع ہوا لیکن آج تک اس کے تمام وعدے پورے نہیں ہوسکے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ عید کے موقع پر وزیراعظم سے گفتگو میں بھی انہوں نے عوام کو ریلیف دینے اور لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ کا بہانہ بناتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت عوامی مفاد کے بجائے آئی ایم ایف کے مطالبات کو ترجیح کیوں دیتی ہے؟ آئی ایم ایف کو حکمرانوں کی شاہانہ اخراجات پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن عوام کو ریلیف دینے پر فوراً شرائط عائد کردی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بدعنوانی، سرکاری اداروں میں کرپشن اور عوام کو مستقل طور پر امداد کا محتاج بنانے کی پالیسیوں نے حکمرانوں نے قوم کو خود کفیل بنانے کے بجائے بھکاری بنانے کی کوشش کی ہے۔پنجاب میں 11 ہزار، سندھ میں ہزاروں اور خیبرپختونخوا میں دو ہزار سرکاری اسکول آؤٹ سورس کیے جارہے ہیں، جو حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ سندھ حکومت کے ترقیاتی منصوبے مسلسل تاخیر کا شکار ہیں اور کوئی بڑا منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہورہا۔#

