اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر3,277.45 کروڑ روپے لاگت کے 260 میگاواٹ صلاحیت کے متنازعہ دلہستی اسٹیج-II رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی منظوری دے دی ہے جو سندھ طاس معاہدے کو مزید نقصان پہنچانے کے علاوہ پاکستان کے زیریں علاقوں کے آبی تحفظ کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اس منصوبے میں 3,685 میٹر طویل ڈائیورژن ٹنل، ہارس شو طرز کا ذخیرہ آب، سرج اور پریشر شافٹس، جبکہ دو 130 میگاواٹ یونٹس پر مشتمل زیرِ زمین پاور ہاؤس شامل ہے۔ منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 60.3 ہیکٹر اراضی درکار ہوگی، جس میں بینزوار اور پالمار دیہات کی 8.27 ہیکٹر نجی زمین بھی شامل ہے۔ بھارت کی مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے تحت قائم ماحولیاتی جائزہ کمیٹی نے اس منصوبے کی منظوری دی۔منصوبے کے تحت موجودہ دلہستی پاور اسٹیشن (اسٹیج-I) سے پانی ایک علیحدہ 8.5 میٹر قطر کی سرنگ کے ذریعے اسٹیج-II تک منتقل کیا جائے گا جہاں ایک ہارس شو پونڈیج تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے میں پونڈیج کے علاوہ
سرج شافٹ، پریشر شافٹ اور زیر زمین پاور ہاؤس بھی شامل ہوگا، جس میں 130 میگاواٹ کے دو یونٹس نصب کیے جائیں گے، یوں مجموعی پیداواری صلاحیت 260 میگاواٹ ہوگی۔ ماہرین کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو عملاً غیر مؤثر بناتے ہوئے بھارت کی جانب سے اس منصوبے کی منظوری، اپ اسٹریم آبی انفراسٹرکچر کی یکطرفہ توسیع کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جو بین الاقوامی آبی تعاون اور مشترکہ دریاؤں کے منصفانہ انتظام کے اصولوں کو کمزور کر رہی ہے۔دریائے چناب پر اضافی سرنگوں، پونڈیج ڈھانچوں اور بہاؤ کو کنٹرول کرنے والے انفراسٹرکچر کی تعمیر سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ بھارت مستقبل میں پانی کے بہاؤ پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکتا ہے جو پاکستان کی زراعت، آبپاشی اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت بارہا بین الاقوامی سوالات کے باوجود ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کے تبادلے اور تکنیکی شفافیت سے گریز کر رہا ہے جس کے باعث جنوبی ایشیا میں دریاؤں کے منصفانہ اور پیش گوئی پر مبنی انتظام کے لیے قائم معاہداتی نظام پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے مسلسل ہائیڈرو پاور منصوبے، بغیر ضروری آبی معلومات کے تبادلے کے، نہ صرف ہائیڈرو پولیٹیکل تناؤ میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ سندھ طاس آبپاشی نظام پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق دلہستی اسٹیج-II منصوبہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ رن آف دی ریور نوعیت کے منصوبے بھی اس وقت اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر لیتے ہیں جب انہیں غیر تعاون پر مبنی آبی پالیسیوں اور سندھ طاس معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کی معطلی کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کے دور میں بھارت کی جانب سے سرحدی دریاؤں پر اس طرز کا کنٹرول علاقائی آبی سلامتی اور پائیدار آبی حکمرانی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔دریائے چناب پر اپ اسٹریم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک سے موسمی پانی کے بہاؤ پر بھارت کے آپریشنل کنٹرول میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پاکستان میں فصلوں کے اوقات، آبپاشی کی منصوبہ بندی اور طویل المدتی زرعی استحکام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

