نیویارک(نمائندہ خصوصی):نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے تنازعہ جموں و کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کےلئے ناگزیر ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش سے ملاقات کے دوران کیا۔ نائب وزیرِاعظم سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران چین کی جانب سے منعقدہ ایک اہم تقریب میں شرکت کےلئے نیویارک کے دورے پر ہیں۔ نائب وزیرِاعظم نے اقوامِ متحدہ اور کثیرالجہتی نظام کےلئے سیکرٹری جنرل کے ثابت قدم عزم اور پاکستان کےلئے ان کی مسلسل حمایت اور مضبوط تعاون کو سراہا۔دونوں رہنماوں نے حالیہ علاقائی پیش رفت بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیرِاعظم نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کےلئے سیکرٹری جنرل کے اصولی موقف اور حمایت کو سراہا۔ انہوں نے اپریل میں اسلام آباد مذاکرات کی
کامیاب میزبانی کو اجاگر کیا جسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہونے والی جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کےلئے مسلسل روابط اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کے فروغ اور تعمیری سفارتی کردار کے ذریعے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کےلئے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیرِاعظم نے سیکرٹری جنرل کے یواین80 اقدام کا خیرمقدم کیا اور اس ضمن میں ان کی قیادت کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے مفادات اور ترجیحات اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ رہنے چاہییں۔ انہوں نے بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے مطابق تنازعات کی روک تھام، پرامن حل، امن مشنز اور امن عمل کی کوششوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ نائب وزیرِاعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے خودمختار مساوات، شفافیت، شمولیت اور رکن ممالک کے درمیان وسیع تر اتفاقِ رائے پر مبنی جامع اصلاحاتی عمل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اصولوں کو صرف منتخب اراکین میں اضافے کے ذریعے ہی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اسحاق ڈار نے بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز اور نفرت آمیز بیانات پر تشویش کا اظہار کیا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہ کو معطل رکھنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون، معاہدے کی شقوں اور بین الریاستی تعلقات کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کےلئے ناگزیر ہے۔ نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی استحکام کےلئے نہایت اہم ہے۔انہوں نے پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق قومی سلامتی کے تحفظ اور اپنے شہریوں کے دفاع کےلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ فلسطین کے حوالے سے نائب وزیرِاعظم نے فلسطینی عوام اور ان کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی جائز جدوجہد کےلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دو ریاستی حل اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کےلئے سیکرٹری جنرل کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔سیکرٹری جنرل نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے فعال کردار اور بین الاقوامی امن و سلامتی کےلئے اس کی مسلسل خدمات، بشمول سفارتکاری اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں تعاون کو سراہا۔

