منیٰ ، مکہ مکرمہ (نمائندہ خصوصی):پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے تقریباً 20 لاکھ فرزندانِ اسلام کل (9 ذوالحجہ کو) مناسکِ حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفات ادا کریں گے، جہاں مسجدِ نبوی کے امام خطبۂ حج دیں گے جسے اردو سمیت 35 زبانوں میں لائیو ترجمے کے ساتھ عازمینِ حج کو سنایا جائے گا۔ 8 ذوالحجہ کو منیٰ کی وادی "لبیک اللہم لبیک” کی ایمان افروز صداؤں سے گونج اٹھی۔ پاکستانی عازمینِ حج سمیت لاکھوں مسلمانوں نے منیٰ میں یومِ ترویہ
روایتی مذہبی جوش و جذبے اور عبادات کے ساتھ گزارا۔پاکستانی عازمین نے منیٰ میں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کیں اور ملک و قوم کی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ مقدس سر زمین پر شدید گرمی کے باعث عازمینِ حج نے دن کا بیشتر وقت اپنے مخصوص خیموں میں عبادات اور ذکر و اذکار میں گزارا۔ تاہم، شام ہوتے ہی موسم خوشگوار ہو گیا، جس کے بعد منیٰ کی گلیوں اور سڑکوں پر عازمینِ حج کی چہل پہل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق، عازمینِ حج آج رات کا کھانا کھانے کے بعد حج کے سب سے بڑے رکن کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات روانگی کی تیاریاں شروع کر دیں گے۔ منیٰ سے میدانِ عرفات کی جانب اولین قافلوں کی روانگی کا سلسلہ سرِ شام ہی شروع ہو جائے گا تاکہ تمام زائرین کو بروقت منتقل کیا جا سکے۔ ترجمان مذہبی امور عمر بٹ کا کہنا تھا کہ کل 9 ذوالحجہ کو تمام عازمینِ حج مناسکِ حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفات کریں گے۔ انتظامیہ کی بھرپور کوشش اور شیڈول کے مطابق، کل ظہر کی نماز سے قبل تمام عازمینِ حج میدانِ عرفات پہنچ جائیں گے جہاں وہ خطبۂ حج سنیں گے اور مغرب تک عبادت و ریاضت میں مصروف رہیں گے

