اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):ازبکستان کے سفیر علی شیر توختایف نے کہا ہے کہ ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ادبی اور ثقافتی تعلقات صدیوں پر محیط ہیں جبکہ شعراء، ادیبوں اور دانشوروں نے دونوں ممالک کے مشترکہ ورثے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ’’بیسویں صدی کی مختصر کہانیاں اور اردو۔ازبک مماثل الفاظ کی لغت‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان پہلی مرتبہ دو اہم ادبی تصانیف کی تقریب رونمائی میں شرکت کر رہا ہے جن میں معروف اردو اسکالر، سفارتکار اور فلولوجیکل سائنسز کے امیدوار توشمرزا کھلمرزا کی مرتب کردہ ’’اردو۔ازبک مماثل الفاظ کی لغت‘‘ اور تاشقند سٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل سٹڈیز کے ماہرین کی جانب سے اردو میں ترجمہ کی گئی کتاب ’’بیسویں صدی کی مختصر کہانیاں‘‘ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کتابوں کے مصنفین اس تقریب میں شریک ہیں اور اس
موقع پر ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ازبک سفیر نے لغت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’اردو۔ازبک مماثل الفاظ کی لغت‘‘ کئی برسوں کی علمی تحقیق کا نتیجہ ہے جو ازبکستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان گہرے ثقافتی اور روحانی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ازبک اور اردو زبانوں میں مماثلت دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی، لسانی اور مذہبی قربت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد میں تعاون پر پاکستان کی قومی زبان کے فروغ کے محکمے کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ صدیوں کے دوران وسطی ایشیا سے شعراء، ادیب، ہنرمند، علماء اور صوفیاء اس خطے میں آتے رہے اور اس عمل کے اثرات ہماری زبانوں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ازبک اور اردو زبانیں اپنی مضبوط ادبی روایات اور لسانی روابط کے باعث خصوصی اہمیت رکھتی ہیں جبکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان صدیوں پر محیط سائنسی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات نے دونوں زبانوں کو مزید قریب کر دیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ لغت اردو اور ازبک زبانوں کے طلباء، اساتذہ، مترجمین اور محققین کے لیے ایک اہم عملی رہنما ثابت ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان لسانی پل کو مزید مضبوط کرے گی۔

