کراچی ( کرائم رپورٹر) کراچی پریس کلب کے۔ سنئیر کیمرہ مین امجد واریہ کے خلاف ڈکیتی کا غیر قانونی مقدمہ درج کرنے پر "طارق جاوید ڈاٹ کام” کی خبر اور پاکستان رپورٹرز فورم کے صدر میاں طارق اور انفاس کھوکھر کے اعلیٰ حکام سے رابطے پر ایس ایچ او گلستاں جوہر کے غیر قانونی اقدامات اور جعلی ایف آئی آر کے اندراج پر نوٹس لیکر سی سی پی
او آزاد خان تنولی نے ایس ایچ او گلستاں جوہر نوید سومرو کو عہدے سے ہٹا کر ایس ایس پی آفس رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہٹائے جانے والے پولیس افسر کے خلاف فوری طور شفاف تحقیقات کا حکم بھی دیدیا ذرائع کے مطابق ایس ایس ایچ او گلستاں جوہر نوید سومرو نے اپنی سرپرستی میں چلنے والے مبینہ گیسٹ ہاؤس پر عوامی شکایات پر میڈیا ٹیم چھاپےپر5 لاکھ روپے رشوت اور رات چھاپے کی آڑ گیسٹ ہاؤس کے مالک کی جانب سے فراہم کردہ تتلیوں کے ساتھ رات رنگین کرنے کے کے عوض میڈیا ٹیم کو 8 گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے کے غیر قانونی مقدمہ درج کیا تھا ۔جس پر ٹیم” طارق جاوید ڈاٹ کام ” خیر شائع کی جس کا پولیس حکام نے گزشتہ روز ہی نوٹس لے لیا تھا ۔زرائع کے مطابق ایس ایچ او
گلستان جوہر نوید سومرو کے عوام شکایات کا نوٹس نہیں لیا بلکہ غیر قانونی گیسٹ ہاؤسز کی لاکھوں روپے کی مبینہ چمک کی آڑ میں پورے پروٹوکول کے ساتھ سرپرستی کی ۔پاکستان رپورٹرز فورم انٹرنیشنل کے صدر میاں طارق جاوید اور سیکرٹری جنرل انفاس کھوکھر نے اعلیٰ پولیس حکام کا نوٹس لیکر پولیس کے نام پر کلنک بننے والے پولیس افسر نوید سومرو کو معطل کیا جانا خوش آئند قرار دیا ہے ۔صدر پاکستان رپورٹرز فورم انٹرنیشنل میاں طارق جاوید نے کہا کہ ایس ایچ او گلستان جوہر نوید سومرو نے صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے غیر قانونی اقدام کیا ہے۔ سی سی او کراچی فوری طور پر شفاف تحقیقات کرائیں اور سنئیر کیمرہ مین امجد واریہ کے خلاف قائم مقدمہ خارج کرکے رہا کیا جائے ۔اہس ایچ او گلستاں جوہر کے موقف کےلئے متعد بار کوششیں کی گئیں مگر رابطہ نہ ہو سکا

