اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):قائداعظم یونیورسٹی کے ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سولائزیشنز (ٹی آئی اے سی) میں پاکستان میں بدھ مت ورثہ کے موضوع پر دو روزہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوگیاجس میں دنیا بھر کے ممتاز سکالرز، سفارتکاروں اور ثقافتی ورثے کے ماہرین نے شرکت کی اور بدھ مت و گندھارا تہذیب کی میراث کو اجاگر کیا۔منگل کو منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتےہوئے وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر
نواز جسپال نے پاکستان کے متنوع ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا اور گندھارن مطالعات اور بدھ مت کے ورثے پر تحقیق کو فروغ دینے کے لئےیونیورسٹی کے عزم کو اجاگر کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے بین الثقافتی مکالمے، ورثے کے تحفظ اور علمی تبادلے کے لئے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کرنے پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس نہ صرف ایک علمی فورم ہے بلکہ بین الثقافتی مکالمے اور علمی و تحقیقی تعاون کا ایک پلیٹ فارم ہے،حکومتِ پاکستان کانفرنس کے منتظمین کی گندھارا کی تاریخی و روحانی میراث کے تحفظ ، امن، ہم آہنگی، رواداری اور ہمدردی کی عالمی اقدار کوفروغ دینے کے مشترکہ عزم کو سراہتی ہے۔کانفرنس بعنوان کثیر الضابطہ تحقیق کے ذریعے پاکستان
کے بدھسٹ ثقافتی ورثے کی تلاش مشترکہ طور پر قائداعظم یونیورسٹی میں ہیومنسٹک بدھسٹ ریسرچ سینٹرز اور یونیورسٹی ملایا، فو گوانگ شان ایجوکیشن سنٹر ملائیشیا،ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی، میوزیم خیبر پختونخوا، سلک روڈ سنٹر، پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اورانٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سینٹرل ایشین سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔20 مئی تک جاری رہنے والی کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ملک سے 36 سے زائد ممتاز مقررین اور سکالرز کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ تقریب کا مقصد کثیر الشعبہ تحقیق کو آگے بڑھانا، بین الاقوامی علمی تعاون کو مضبوط بنانا اور پاکستان کے بدھ مت ورثے اور گندھارا کی عالمی تہذیب کو فروغ دینا ہے۔

