اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) : آئی ایم ایف نے ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نان فائلرز پر پابندیاں سخت کرنے اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجاویز دی ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی اور محدود ٹیکس نیٹ کو معیشت کے لیے
بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا ہے۔آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صوبائی سطح پر الگ الگ جی ایس ٹی نظام ہونے کی وجہ سے پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ اگر سیلز ٹیکس میں کارکردگی کو 35 فیصد تک بہتر کر لیا جائے تو حکومت کو 2100 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومتی ریونیو کا ایک بڑا انحصار پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز پر ہے جبکہ مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ اب بھی جی ڈی پی کے 1.2 فیصد کے برابر ہے۔

