لاہور ( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بائیس مئی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ اور مہنگائی کی مجموعی صورتحال کے خلاف ملک گیر مظاہرے اور دھرنے ہوں گے، جون کے پہلے عشرے میں چاروں صوبوں میں ہڑتال ہوگی ، حکومت نے پٹرول کی قیمتیں کم نہ کیں تو سڑکوں کو جام کردیں گے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا۔دیر پائیں میں تاریخی اور بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کا موجودہ نظام عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہا ہے، اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وقت آگیا۔جماعت اسلامی کا مارچ اٹک پل تک نہیں رکے گا۔ “بدل دو نظام” جلسہ عام سے سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق ، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان اور امیر دیر پائیں مولانا اسد اللہ نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ جلسہ اختتام نہیں بلکہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔ انہوں نے مقامی قیادت کو پہاڑی علاقے میں شاندار جلسے کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے ہوئے انہیں دیر پائیں میں جماعت اسلامی کے 80 ہزار ممبرز بنانے
کا ہدف دیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 79 برس سے ملک پر افسرشاہی، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مافیاز کا ایک کنسورشیم (Consortium) مسلط ہے جس نے عوام کا استحصال کیا۔ قوم نے مل کر ان کمپنیوں کو گرانا اور نظام تبدیل کرنا ہے، عوام اب اس فرسودہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں اور نئی قیادت اور نئے نظام کے خواہاں ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 1969 میں ریاست دیر پاکستان میں شامل ہوئی تو یہاں تعلیمی ادارے اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں، تاہم جماعت اسلامی نے عوامی خدمت کے ذریعے یہاں حکومت کے بغیر حکومت سے زیادہ کام کیا، سڑکوں کا جال بچھایا اور عوام کو سہولیات فراہم کیں۔ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں ، دیگر سیاسی جماعتیں تعلیم کے میدان میں عملی کام کر کے دکھائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت علاقہ میں ایک بھی نیا کالج کیوں نہ کھول سکی اور صوبہ بھر میں پچاس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر کیوں ہیں؟ انہوں نے پنجاب میں اسکولوں کی نج کاری پر بھی تنقید کی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی موقع ملنے پر ملک بھر میں سو فیصد مفت تعلیم کا نظام نافذ کرے گی کیونکہ آئین کے مطابق مفت اور لازمی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جماعت اسلامی نے تاریخ میں پہلی مرتبہ کراچی میں تعلیم کارڈ جاری کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ جاگیرداروں اور اشرافیہ نے تعلیم میں طبقاتی تقسیم پیدا کی، خود تو اعلیٰ تعلیم حاصل کی لیکن عوام کو جاہل رکھا۔ انہوں نے “بنو قابل” پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے بعد دیر میں بھی نوجوانوں کو مفت تعلیم اور ہنر فراہم کیے جائیں گے۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جانا چاہیے اور عمران خان کو بھی آزادی ملنی چاہیے۔ جماعت اسلامی سیاسی رواداری پر یقین رکھتی ہے اور کسی کی کرایہ دار جماعت نہیں۔ جماعت اسلامی ملک کی واحد حقیقی جمہوری جماعت ہے جبکہ دیگر جماعتوں میں خاندانی اور آمرانہ سیاست رائج ہے۔ جماعت اسلامی مسلک کی بنیاد پر تقسیم کی سیاست نہیں کرتی بلکہ تمام مکاتب فکر اور علما کا احترام کرتی ہے۔ جماعت اسلامی صرف تنقید نہیں کرتی بلکہ عملی خدمت بھی انجام دیتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی ٹیکس پر شدید تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 410 روپے فی لیٹر پٹرول عوام پر ظلم ہے۔ حکومت نے عوامی احتجاج کے بعد صرف پانچ روپے کمی کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری، وزیراعظم یہ تماشا بند کریں ، اگر عالمی سطح پر قیمتیں بڑھی ہیں تو حکومت اضافی ٹیکس اور لیوی ختم کرے۔ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خلاف کل (پیر ) آئینی عدالت میں درخواست دائر کر رہی ہے۔ ہمیں معلوم ہے عدالتیں یرغمال ہیں ، اس کے باوجود عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، سڑکوں پر بھی عوامی عدالت لگے گی۔ حکومتیں اب تک لیوی کی مد میں 8 ہزار 66 ارب روپے وصول کر چکی ہے جبکہ ریفائنری کے نام پر لی جانے والی رقم سے نئی ریفائنریاں تعمیر نہیں کی گئیں۔ ملک میں موٹرسائیکل سوار، طلبہ، مزدور اور محنت کش پٹرولیم لیوی پر 500 ارب روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں ، حکومت غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں کو چھوٹ دیتی ہے۔ جب عوام اٹھ کھڑے ہوں گے تو حکمرانوں کو بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے عوامی قافلے اسلام آباد پہنچیں گے اور آئی ایم ایف کے غلام طبقے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں گے۔
اوورسیز (Overseas) پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ 40 ارب ڈالر بھیجتے ہیں لیکن حکومت انہیں سہولیات دینے کے بجائے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں 60 ہزار افراد کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا۔
خارجہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے امریکی صدر پر شدید تنقید کی اور کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جماعت اسلامی نے ہمیشہ واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور بڑے مظاہرے کیے تاہم ملک کی دیگر نام نہاد بڑی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کو یہ توفیق نہیں ہوئی، انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران ثالثی میں قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
انتخابی سیاست کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی لیکن اقتدار کے لیے عوام کے علاوہ کسی سے اتحاد نہیں کرے گی۔ جماعت میں صرف وہی لوگ رہیں جو نظریاتی وابستگی رکھتے ہوں، محض سیٹوں کی سیاست کرنے والے کسی اور جماعت میں چلے جائیں۔ خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وراثت میں خواتین کو ان کا حق دلایا جائے گا اور جو شخص خواتین کو حق سے محروم کرے گا اسے جیل جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین مضبوط ہے اور آئندہ اسی گراؤنڈ میں خواتین کا بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

