پشاور۔(نمائندہ خصوصی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے اگر ایک طرف زراعت، ڈیموں اور پھلوں کے باغات کو خطرات درپیش ہیں تو دوسری طرف آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں درختوں کی تقریباً 20 عام اقسام بھی معدوم ہونے کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سابق کنزرویٹر آف فارسٹس توحید الحق نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان خطرات سے دوچار اقسام میں دیودار، زیتون، بلیک بورڈ ٹری، انار، عام ناشپاتی، پیپل، کڑی پتہ، بلیک لوکسٹ، اولینڈر، اک، چنار اور آڑو شامل ہیں جو آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر پائے جانے والے 20 مقامی درختوں میں سے ہیں۔ اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو ان کے معدوم ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسے حالات میں خطے کے درجہ حرارت اور گلیشیئرز کے پگھلنے میں اضافہ ہوگا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بارشوں میں کمی آئے گی جس سے غذائی عدم تحفظ اور ماحولیاتی
خطرات پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کی منفرد آب و ہوا، دریاؤں کا نظام اور مٹی کی ساخت مقامی نباتات کو ایک بھرپور تنوع کا سہارا دیتی ہے۔ دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی کمی ان اقسام کو شدید خطرات میں ڈال سکتی ہے اور انہیں معدوم ہونے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں ایسی سنگین ماحولیاتی صورتحال میں شمالی حصوں کا ماحولیاتی توازن، غذائی تحفظ اور قدرتی ورثہ شدید متاثر ہوگا۔توحید الحق کے مطابق پاکستان سالانہ 72,000 سے 74,000 ٹن آڑو پیدا کرتا ہے جس میں سے 67 سے 75 فیصد سے زیاد خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر سال تقریبا 0.79 ملین (7 لاکھ 90 ہزار) ٹن سیب پیدا ہوتے ہیں جس کا تقریباً 25 فیصد خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اگایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو پھلوں کے ان باغات کو ممکنہ طور پر ناپید ہونے کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زیتون کے درخت بھی پانی کی قلت کا شکار بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت پانچ ملین سے زائد کاشت شدہ زیتون کے درخت اور تقریباً 80 ملین جنگلی زیتون کے درخت موجود ہیں جبکہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں سالانہ تقریباً 500,000 سے 800,000 نئے پودے لگائے جاتے ہیں۔ ملک میں سالانہ 180 میٹرک ٹن تک زیتون کا تیل پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے کناروں پر موجود دیودار اور صنوبر کے جنگلات بھی بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان جنگلات کے ختم ہونے سے ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچے گا، ہمالیہ کے خطے میں آلودگی اور زمینی کٹاؤ میں اضافہ ہوگا۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں شہد کی مکھیوں کی پرورش اور جنگلی حیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے خطرے سے دوچار کشمیر مارخور، برفانی چیتے اور مارخور کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقسام جو کبھی گلیشیئر کے چشموں سے سیراب ہونے والی چٹانوں پر آزادانہ گھومتی پھرتی تھیں ، اب دریاؤں کے بہاؤ میں ممکنہ رکاوٹوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔تحفظِ ماحول کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی کمی اس نازک ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کو متاثر کر سکتی ہے جو ایکوا کلچر، زراعت اور مقامی افراد کے ذریعہ معاش دونوں کو سہارا دیتی ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کے غیر قانونی فیصلے نے ماہرینِ ماحولیات اور جنگلی حیات کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ دریا کے بہاؤ میں کمی کے نتیجے میں آزاد کشمیر اور پنجاب میں جنگلی حیات اور آبی ماحولیاتی نظام کے ساتھ ساتھ فوڈ چین اور ماحولیاتی توازن پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے جنگلی حیات کے سابق چیف کنزرویٹر مبارک شاہ نے پانی کو ہمالیائی حیاتیاتی تنوع کی لائف لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے بغیر درختوں اور جنگلی حیات کےلیے کوئی مسکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات، شہد کی مکھیوں اور جنگلی حیات کی آبادی کی بقا کےلیے پانی ضروری ہے۔ اگر مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کمی آتی ہے تو آزادکشمیر، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں تحفظ کی کوششیں ممکنہ طور پر شدید متاثر ہوں گی اور علاقائی فوڈ چین درہم برہم ہو جائے گی۔ آزاد کشمیر کا منظرنامہ سب ٹراپیکل جنگلات سے لے کر الپائن کے سرسبز میدانوں تک پھیلا ہوا ہے اور یہ کشمیری مارخور، برفانی چیتے، ہمالیائی بھورے ریچھ، کستوری ہرن، ہمالیائی گورل اور یوریشین لنکس جیسی خطرے سے دوچار اقسام کو مسکن فراہم کرتا ہے۔ یہ اقسام سندھ طاس کے نظام خاص طور پر دریائے سندھ، جہلم اور چناب سے سیراب ہونے والے بلا تعطل میٹھے پانی کے نظام پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا کہ پانی کے بہاؤ میں کمی سے نہ صرف پینے کے پانی کے ذرائع سکڑ جائیں گے بلکہ نباتات بھی تباہ ہو جائیں گی، مسکن کے نقصان میں تیزی آئے گی اور افزائش نسل کے دورانیے درہم برہم ہو جائیں گے۔ مبارک شاہ نے کہا کہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب اس خطے کی ماحولیاتی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ زراعت اور پینے کے پانی کے علاوہ یہ ویٹ لینڈز، جنگلات اور نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب درخت نہیں ہوں گے تو بارشوں اور برف باری کے امکانات کم ہو جائیں گے اور جنگلاتی وسائل کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے مسکن بھی سکڑ جائیں گے اور جب جنگلات غائب ہو جاتے ہیں اور مسکن تباہ ہو جاتے ہیں تو تحفظ کے پروگرام ناکام ہو جاتے ہیں اور اسی طرح پانی کے وسائل ختم ہونے سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی دستیابی میں کمی سے بھیڑیوں، ریسس میکاک، پینگولن، بارکنگ ڈیئر اور دیگر جنگلی حیات کی آبادی کم ہو سکتی ہے جو پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی اور مسکن کی تباہی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی علوم کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نفیس احمد نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے اثرات جنگلی حیات، جنگلات اور آبی وسائل سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع ماحولیاتی نظام کو صحت مند رکھتے ہیں اور پائیدار زراعت اور غذائی تحفظ کو سہارا دیتے ہیں۔ پانی کے بہاؤ میں کمی سے صحرا زدگی اور خشک سالی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب خطے کے لاکھوں لوگوں کے لیے بھوک، غربت اور غذائی عدم تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی دنیا کے 10 سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے غیر یقینی پیٹرن اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے اتار چڑھاؤ نے پہلے ہی ماحولیاتی نظام، پانی اور جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی مزید قلت صحرا زدگی میں اضافے، جنگلی حیات اور شہد کی مکھیوں کی آبادی کی ہجرت، باغات کے زوال اور فصلوں کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر نفیس احمد نے کہا کہ پانی کی قلت صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے خاتمے سے آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوگا۔ سندھ طاس معاہدے کی بحالی انسانی بقا کا معاملہ ہے اور یہ اب عالمی بینک کےلیے ایک ٹیسٹ کیس ہے کیونکہ وہ اس کا ضامن ہے۔ انہوں نے عالمی تحفظ اور مالیاتی اداروں، خاص طور پر عالمی بینک سے مداخلت کرنے اور سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ عالمی بینک جس نے 1960 میں اس معاہدے کی ثالثی کی تھی، سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ خطے میں ماحولیاتی استحکام کے تحفظ میں مدد کرے۔ماہرین نے ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف)، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این)، وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی (ڈبلیو سی ایس) اور کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ ان اینڈینجرڈ اسپیشیز آف وائلڈ فانا اینڈ فلورا (سائٹس) سمیت بین الاقوامی تحفظ کے اداروں کے ردعمل پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمالیہ میں حیاتیاتی تنوع کا نقصان پورے جنوبی ایشیا کے ماحولیاتی نیٹ ورک پر اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے ان تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور خطے کے ماحول کو بچائیں۔ اگر میٹھے پانی کے نظام سکڑ گئے تو پرندوں کی اقسام جیسے کہ ہمالیائی مونال، ہمالیائی سنوکاک، چکور اور یوریشین ایگل اول بھی مسکن کی تباہی اور آبادی میں کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مبارک شاہ نے کہا کہ پانی پوری فوڈ چین کو برقرار رکھتا ہے۔ ایک سطح پر فاقہ کشی پورے ماحولیاتی نظام میں پھیل جاتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف اقدام کیا جائے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی عدم توازن جنگلات اور پہاڑوں سے کہیں آگے تک پھیل سکتا ہے، جو بالآخر ان لاکھوں لوگوں کو متاثر کرے گا جو بقا کےلیے ان قدرتی پانی کے نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں دریا کے کناروں پر رہنے والے افراد کےلیے سندھ طاس معاہدے کا مسئلہ انتہائی ذاتی ہے۔ پانی محض ایک معاہدے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ فصلوں، مویشیوں، جنگلات، جنگلی حیات اور انسانی آبادی کےلیے شہ رگ ہے۔ تحفظِ ماحول کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی استحکام کو سیاسی تنازعات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ جیسے ہی دریا ہمالیہ سے پاکستان کے میدانوں میں اترتے ہیں، وہ اپنے ساتھ نہ صرف پانی لاتے ہیں بلکہ جنگلات، جنگلی حیات، ذریعہ معاش اور آنے والی نسلوں کی بقا بھی لاتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر یہ پانی کم ہو گیا، تو پہاڑوں اور جنگلات میں خاموشی کسی بھی وہم و گمان سے زیادہ گہری ہو سکتی ہے جس کے فطرت اور انسانیت دونوں کےلیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

