اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):بحری تعلیم کے شعبے میں طویل المدتی مالی استحکام اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے ’’میری ٹائم ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ‘‘ کے تحت 25 ارب روپے مالیت کا اسکالرشپ کارپس قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے دس سال میں مجموعی ادائیگیاں تقریباً 12 ارب روپے اور تقریباً 65 ہزار طلبہ مستفید ہوں گے۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ بات جمعہ کو وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں زیرغور آئی ، جس میں مجوزہ فنڈ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کا مقصد بحری تعلیم تک رسائی کو وسعت دینا اور اس شعبے میں افرادی قوت کی ترقی کو فروغ دینا تھا۔وفاقی وزیر نے مجوزہ فنڈ کو ایک ’’خود کفیل مالیاتی نظام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اسکالرشپس کی فراہمی اور بحری شعبے میں استعداد کار میں اضافہ ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مختلف ذرائع سے آنے والی مالی معاونت کو ایک مربوط سرمایہ
کاری ماڈل میں تبدیل کرے گا، جو مسلسل سرمائے کی گروتھ اور ری انویسٹمنٹ کے ذریعے طلبہ کی بڑی تعداد کو فائدہ پہنچائے گا۔ گوادر پورٹ کے چیئرمین نورالحق بلوچ کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ فنڈ کے قیام کے لیے ابتدائی طور پر دو تیاری اجلاس ہو چکے ہیں۔ مجوزہ فنڈ کا انتظام 10 رکنی بورڈ کے ذریعے کیا جائے گا، جس کی حتمی تشکیل آئندہ اجلاس میں طے کی جائے گی۔ بورڈ میں سرکاری و نجی شعبے کی نمائندگی کے ساتھ صنفی شمولیت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اجلاس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے نمائندوں سمیت وزارت بحری امور کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ابتدائی فنڈنگ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) کے تحت بڑی بحری اداروں اور نجی شعبے کی عطیات سے حاصل کی جائے گی، جس کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 15 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ماڈل کو اس طرح تشکیل دیا جا رہا ہے کہ یہ ابتدائی سرمایہ اور عطیات کو سرمایہ کاری کے ذریعے خود کفالت حاصل کر سکے۔ فنڈ کے تحت 80 فیصد رقم اسکالرشپس، 10 فیصد انتظامی اخراجات اور باقی حصہ دیگر معاون سرگرمیوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق پہلے سال میں تقریباً 2.35 ارب روپے کی معاونت متوقع ہے، جس سے 28 کروڑ 50 لاکھ روپے کے اسکالرشپس دیے جا سکیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کے اس عزم کا عکاس ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی بلیو اکانومی کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے۔

