اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے بدھ کو اسلام آباد میوزیم میں ’’لیگیسی ریٹرنز ہوم‘‘ کے عنوان سے خصوصی نمائش کا افتتاح کیا جس میں امریکا سے پاکستان واپس لائے گئے منتخب ثقافتی و تاریخی نوادرات کو عوام کیلئے پیش کیا گیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ نمائش پاکستان کی تاریخ، تہذیب، شناخت اور قومی ورثے کے ایک اہم حصے کی واپسی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک نمائش نہیں بلکہ پاکستان کی روح کے ایک حصے کی وطن واپسی کا جشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوادرات پاکستان کی عظیم تہذیبی تاریخ، فنکارانہ مہارت اور صدیوں پر محیط ثقافتی روایات کی نمائندگی کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کی قدیم وادی سندھ تہذیب اور گندھارا فن کے عالمی شہرت یافتہ ورثے کا امین ہے جہاں مختلف تہذیبوں، مذاہب، ثقافتوں اور افکار کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آثار قدیمہ کا ورثہ آج بھی دنیا بھر کے محققین، مورخین، فنکاروں اور دانشوروں کیلئے باعث کشش ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کھدائی، تاریخی نوادرات کی چوری اور سمگلنگ عالمی ثقافتی ورثے کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں جو قوموں اور آنے والی نسلوں کو ان کی شناخت اور اجتماعی یادداشت سے محروم کرتے ہیں۔ انہوں نے نوادرات کی غیر قانونی تجارت کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان ثقافتی ورثے کے تحفظ، بحالی اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کئے گئے نوادرات کی واپسی کیلئے قانونی، ادارہ جاتی اور پیشہ ورانہ اقدامات کو مزید
مضبوط بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی اثاثوں کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 30 جنوری 2024ء کو ایک دوطرفہ معاہدہ طے پایا جس کا مقصد پاکستان کے ثقافتی اثاثوں کا تحفظ اور نوادرات کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام ہے۔ انہوں نے وزارت خارجہ اور بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے ان نوادرات کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔وفاقی وزیر نے حکومت امریکا، امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں، ہوم لینڈ سکیورٹی حکام، ثقافتی اداروں، نیویارک ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اور امریکی سفارتخانے کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان نوادرات کی واپسی میں تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کی جانب سے نمائش کے انعقاد کو بھی سراہا۔تقریب کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ سیکرٹری امریکی سفارتخانہ پاکستان ایس کے پال کپور (S. K Paul)نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اپنی آزادی کے 200 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے اور اس نے اپنے تاریخی و ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلیم، صحت، زراعت، ثقافت اور ورثے سمیت مختلف شعبوں میں مضبوط دوطرفہ تعلقات موجود ہیں۔تقریب میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت فرح ناز اکبر، قومی ورثہ و ثقافت کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار اور رکن قومی اسمبلی طفیل جٹ نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ یہ نمائش انصاف، بین الاقوامی تعاون اور انسانیت کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپس لائے گئے نوادرات پاکستان کی تاریخی شناخت کے انمول ابواب کی نمائندگی کرتے ہیں اور قدیم تہذیبوں کی فنی، روحانی اور ثقافتی کامیابیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وادی سندھ تہذیب کی شہری ترقی سے لے کر گندھارا فن کے شاہکاروں تک پاکستان ایک عظیم آثار قدیمہ کے ورثے کا حامل ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ نوادرات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس خصوصاً گندھارا خطے کے آثارِ قدیمہ کے مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔سیکرٹری نے کہا کہ حکومت پاکستان آثار قدیمہ ایکٹ 1975 کے تحت آثار قدیمہ کے تحفظ، دستاویزی ریکارڈ کی بہتری، تاریخی مقامات کی حفاظت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے قومی ورثے کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یونیسکو 1970 کنونشن کا بھی دستخط کنندہ ہے جو ثقافتی اثاثوں کی غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی تعاون کا اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان 2024ء میں ’’ہولڈ ہارملیس ریلیز ایگریمنٹ‘‘ پر دستخط ہوئے جس سے ثقافتی ورثے کے تحفظ، ادارہ جاتی ترقی، تکنیکی تعاون، پیشہ ورانہ تربیت اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں نئی راہیں کھلی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2007ء سے اب تک امریکا سے پاکستانی ثقافتی ورثے سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 513 نوادرات وطن واپس لائے جا چکے ہیں۔انہوں نے امریکی سفارتخانے، امریکا میں پاکستانی مشن اور وزارت خارجہ کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے پاکستان کے ثقافتی اثاثوں کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر امان اللہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش پاکستان کی تاریخ اور شناخت کے انمول اثاثوں کی وطن واپسی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائش میں پیش کئے گئے نوادرات ان قدیم تہذیبوں کی شاندار ثقافتی کامیابیوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو کبھی اس خطے میں پروان چڑھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ثقافتی ورثہ طویل عرصے سے غیر قانونی کھدائی، چوری اور سمگلنگ جیسے خطرات کا سامنا کرتا رہا ہے جس سے آنے والی نسلیں اپنی تاریخی شناخت سے محروم ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی آثار قدیمہ کے تحفظ، تحقیق، دستاویزی عمل، تاریخی مقامات کی حفاظت اور بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ڈی جی نے امریکا کے تعاون سے 513 قیمتی نوادرات کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ معاہدے نے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کیلئے تعاون کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے امریکی سفارتخانے، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کے افسران کا نمائش کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔نمائش میں وہ منتخب نوادرات پیش کئے گئے ہیں جنہیں امریکا میں ہوم لینڈ سکیورٹی حکام نے ضبط کیا تھا اور بعد ازاں یونیسکو 1970 کنونشن کے آرٹیکل 7(b)(ii) اور پاکستان و امریکا کے درمیان 30 جنوری 2024ء کو طے پانے والے معاہدے کے تحت نیویارک ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے نیویارک میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کیا۔نمائش میں مختلف تاریخی ادوار سے تعلق رکھنے والے نایاب پتھر اور اسٹکو سے تیار کردہ بدھ مت کے مجسمے، مذہبی صندوقچے، گندھارا تہذیب کے نقش و نگار، ہند-یونانی دور کا نایاب طلائی سکہ، بلوچستان سے ملنے والے سات ہزار قبل مسیح کے ٹیراکوٹا مجسمے اور رنگین ظروف شامل ہیں۔لیگیسی ریٹرنز ہوم نمائش کا مقصد عوام میں نوادرات کی غیر قانونی سمگلنگ کے تباہ کن اثرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور قومی ثقافتی ورثے اور شناخت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔سرکاری تفصیلات کے مطابق امریکا سے مختلف مراحل میں مجموعی طور پر 513 نوادرات وطن واپس لائے جا چکے ہیں جن میں 2007ء میں 39، 31 اگست 2021 ءکو 46، 9 ستمبر 2023ء کو 104، 6 فروری 2025ء کو 191 اور 26 اگست 2025ء کو 133 نوادرات شامل ہیں۔
