مکہ مکرمہ (نمائندہ خصوصی)وزارت مذہبی امور کے پرائیویٹ حج مانیٹرنگ سیل نے پرائیویٹ سکیم کے تحت آنے والے پاکستانی عازمین کے حقوق کو تحفظ یقینی بناتے ہوئے حج گروپ آرگنائزرز (ایچ جی اوز) سے 65,665 سعودی ریال (تقریباً 49 لاکھ 23 ہزار روپے) کی اضافی رقم وصول کرکے عازمین کے حوالے کر دی ہے۔ یہ کارروائی معاہدوں کی خلاف ورزی اور خدمات میں کمی کی شکایات پر کی گئی۔ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے آپریٹرز کو خبردار کیا گیا ہے کہ معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے پر بھاری جرمانے اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔وزارت مذہبی امور کے پرائیویٹ حج مانیٹرنگ سیل کے کوآرڈنیٹر محمد بخش سانگی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اب ت پرائیویٹ سکیم کے تحت 18 ہزار997پاکستانی عازمین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جن میں سے 2,300 عازمین سے 26 نکات پر مشتمل تفصیلی
ڈیجیٹل سوالنامہ پر کروا کر مانیٹرنگ مکمل کی گئی ہے۔ مانیٹرنگ سیل کی 12 ٹیمیں مکہ اور مدینہ میں چوبیس گھنٹے متحرک ہیں جو عازمین کی درخواست سے لے کر واپسی تک کے تمام مراحل کی نگرانی کر رہی ہیں۔ شکایات کے فوری اندراج کے لیے ’’پاک حج ایپ‘‘ کے علاوہ گوگل فارمز اور ایک نئی ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ڈپٹی کوآرڈینیٹر سیل زرغان شہزاد نے بتایا کہ سعودی تعلیمات کی روشنی میں وزارت مذہبی امور میں رجسٹرڈ 902 حج گروپ آرگنائزرز کے درمیان کوٹہ تقسیم کیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام پرائیویٹ آپریٹرز اس بات کے پابند ہیں کہ وہ مدینہ میں مسجد نبوی اور مکہ میں حرم مکی کے قریب ترین رہائش سمیت تمام طے شدہ سہولیات فراہم کریں۔ ہمارا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر عازم حج کسی بھی پریشانی کے بغیر اپنی عبادات پر توجہ مرکوز رکھ سکے۔زرغان شہزاد نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 994 نجی گروپس کے ذریعے عازمین حج مکہ اور مدینہ پہنچ چکے ہیں۔ مکہ میں 232 اور مدینہ میں 61 گروپس کی مانیٹرنگ مکمل کی گئی جس کے دوران مدینہ منورہ میں سروسز کے معیار پر سمجھوتہ کرنے والے آپریٹرز سے جرمانہ وصول کر کے متاثرہ حجاج کو واپس کر دیا گیا ہے۔ اب تک موصول ہونے والی تمام 4 شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے جبکہ ضوابط کی خلاف ورزی پر مکہ میں ایک اور مدینہ میں دو نوٹسز جاری کرنے سمیت ایک گروپ پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

