اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):آزادکشمیر کے سابق صدر و سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان امن سفارت کاری کا عمل بدستور جاری ہے اور دونوں ممالک خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے حساس سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ اس وقت ’’بارود کے ڈھیر‘‘ پر بیٹھے ہیں جہاں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عسکری تناؤ کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی اور نفسیاتی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایرانی مذاکرات کاروں کے بیانات اورامریکی میڈیا میں سامنے آنے والے بیانیے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں فریق عالمی رائے عامہ، توانائی منڈیوں اور سفارتی پوزیشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تیل اور گیس کی
قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی انہی سفارتی پیش رفتوں سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان کے سفارتی کردار پر بات کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اسلام آباد کو اب بھی واشنگٹن اور تہران دونوں کا اعتماد حاصل ہے اورپاکستان نہایت محتاط اور متوازن انداز میں مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سہولت کاری کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیر غور سفارتی فریم ورک میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی،فوجی واقتصادی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے مجوزہ تیس روزہ طریقہ کار شامل ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ ایران مستقبل میں امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملوں کےخلاف ضمانتیں چاہتا ہےجبکہ تہران اقتصادی اور عسکری پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مستقبل میں اجتماعی سکیورٹی فریم ورک کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں دیرپااستحکام یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ محدودفوجی جھڑپیں بظاہر ایک دوسرے کی حکمت عملی اور ردعمل کو جانچنے کے لیے تھیں جبکہ واشنگٹن اور تہران دونوں ایک طویل جنگ سے گریز کرتے ہوئے کشیدگی میں بتدریج کمی کے کسی قابلِ عمل راستے کی تلاش میں ہیں۔


