لاہور(نمائندہ خصوصی):پاک چین صنعتی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان متعدد ایم او یوز اور تجارتی معاہدے طے پا گئے۔ہفتہ کو مقامی ہوٹل میں منعقدہ پاک چین بز نس ٹو بزنس کانفرنس میں کامیاب میچ میکنگ سیشنز کے بعد پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان متعدد ایم او یوز و تجارتی معاہدے طے پائے ۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی موجودگی میں اہم معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کیے گئے ۔کانفرنس میں چین کی 74 کمپنیوں کے 105 نمائندوں جبکہ پاکستان کی 136 کمپنیوں کے 242
نمائندوں نے شرکت کی۔گھریلو برقی آلات کے شعبے میں 15 ایم او یوز پر دستخط ہوئے جس پر اس شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری 40 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔اسی طرح الیکٹریکل سیکٹر میں 10 اہم معاہدے طے پائے اور سب سے بڑا معاہدہ 60 ملین ڈالر مالیت کا طے ہوا۔بیٹری اسٹوریج سیکٹر میں 27 معاہدے اور ایم او یوز پر دستخط ہوئے اور سب سے بڑی سرمایہ کاری 82 ملین ڈالر تک ریکارڈ ہوئی ۔پاک چین بز نس ٹو بزنس کانفرنس میں مزید 40 ایم او یوز پر مذاکرات جاری ہیں جس سے صنعتی تعاون کے نئے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان معاشی استحکام اور صنعتی ترقی کی جانب گامزن ہے، حکومت صنعتی ترقی و برآمدات کے فروغ کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی تعاون دونوں ممالک کیلئے ترقی و خوشحالی کا اہم ذریعہ ہے،پاک چین کمپنیوں کے درمیان ان معاہدوں سے مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل گئے ہیں، اس سے پاکستان اور چین کے صنعتی و تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے ۔


