راولپنڈی۔(نمائندہ خصوصی):پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ جو کرنا ہے کرو، چاہے روایتی یا غیر روایتی جنگ ہو ، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، ہم کھڑے ہیں اور بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، پاکستان کی سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، کسی کی جرأت نہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان آسکے، ہم آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گےان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف پروجیکٹس ائیر وائس مارشل طارق غازی اور ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف آپریشنز رئیر ایڈمرل شفاعت علی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق میں اللہ کے فضل سے مسلح
افواج قوم کی امنگوں پر پورا اتری، ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی، یہ بات پاکستانی بچوں کے ساتھ ہندوستانی بچے بھی جانتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے مانتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بہت مکاری سے بیانیہ بنایا کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت نے بیانیے کے لئے فالس فلیگ آپریشن کیے اور پہلگام واقعے پر بغیر تحقیقات لمحوں میں پاکستان پر الزام لگا دیا گیا، دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کے لئے تیار نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام واقعہ کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کون لوگ تھے جنہوں نے یہ کرایا، بھارت بتائے کس دہشت گرد کیمپ کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے واقعہ کے 15 منٹ کے اندر ایف آئی آر ہو گئی کہ دہشت گرد سرحد پار سے آئے تھے لیکن بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے، بھارت اپنے لوگوں پر دہشت گردی کراتا ہے اور الزام دوسروں پر عائد کر دیتا ہے، بھارت کو سچ بولنا چاہئے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، بھارت کی پروفیشنل فوج کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، بھارتی سیاستدان ہندوتوا کے نعرے اور اکھنڈ بھارت کی باتیں کر رہے ہیں، اگر یہی زبان استعمال کرنی ہے تو پھر آؤ سامنے، بھارت کے لئے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا
ہے کرو، روایتی یا غیر روایتی، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، ہم کھڑے ہیں اور بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں کی جنگ ہے، کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لاسکتا، اگر کسی کو شک ہے تو اس کی ایک قسط ہم دکھا چکے ہیں، پاکستان کی سلامتی اور دفاع کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں جو آپ نے دیکھا ہے وہ ہماری مجموعی پاور پوٹینشل کا 10 سے 15 فیصد ہے، 14 اگست کو عظیم الشان پریڈ ہوگی، اپنی قوت کی صلاحیت کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے، مقصد یہ ہے کہ وہ بعد میں یہ نہ کہیں کہ بتایا نہیں تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیں خود پر اور قوم پر بھروسہ ہے، قوم کو بھی ہم پر بھروسہ ہے ، کسی کی جرأت نہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان آسکے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، وہ انہوں نے آپس میں کرنا ہے، ہم تو کہتے ہیں سیاستدان اپنے معاملات بات چیت سے حل کریں ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خطے کو استحکام کون دے رہا ہے، پاکستان ہی دے رہا ہے اور خطے میں امن کے لئے سب سے زیادہ کوششیں پاکستان کر رہا ہے، ہمارے عزم پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے، دو نیوکلیئر ریاستوں کے درمیان جنگ پاگل پن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے بہت گہرے اور برادارانہ تعلقات ہیں، پاکستان کو سعودی عرب اور سعودی عرب کو پاکستان کی سکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے، محافظین حرمین شریفین کا اعزاز ہر پاکستانی کے لئے اہم ہے ، حرمین شریفین کی حفاظت سعودی عرب کی قومی سلامتی سے جڑی ہے، سعودی عرب کو خطرہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ان کے حلیے آپ کو اسلامی نظر آئیں گے لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہم آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے، دہشت گردی کی جنگیں، بیانیے کی جنگیں لمبی ہوتی ہیں یہ وقت لیتی ہیں، ابھی ہم نے ایک چھوٹی سے جھلک دکھائی ہے، ان کی پراکسیوں سے لڑتے ہوئے ہمیں دہائیاں ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعہ کے پیچھے بھارت اور افغانستان ملوث ہیں، افغان طالبان کے نام نہاد وزیر خارجہ بھارت سے مدد مانگتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ائیرفورس کا پائلٹ جب جہاز میں جارہا تھا تو اس کے ذہن میں ڈر نہیں تھا، یہ دنیا تو آنی جانی چیز ہے، جتنا وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں، اتنا پیار ہمیں شہادت سے ہے، شہید کی موت اس کا زیور ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے بہت مکاری سے بیانیہ بنایا کہ پاکستان دہشت گردی کرتا ہے لیکن بھارت خود دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت کشمیر اور منی پور میں لوگوں پر ظلم کر رہا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جب ہم اس سال کا احاطہ کرتے ہیں، ہم احاطہ کریں گے کہ ہمارا مشرقی ہمسایہ ملک سارا سال کیا کرتا رہا، یہ سندور سے نکلتے کیوں نہیں، سندور تو خواتین کو لگایا جاتا ہے، ایک پاکستان اور دوسرا فیلڈ مارشل دن رات بھارت کے خواب میں آتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف پروجیکٹس ائیر وائس مارشل طارق غازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کے 8 طیارے گرائے اور اب ہم 8 صفر پر ہیں، بھارت کے گرائے گئے جہازوں میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل ہے، اس کے علاوہ ایک انتہائی مہنگا کثیرالجہتی خود کار ائیرل سسٹم بھی تباہ کیا۔پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف آپریشنز رئیر ایڈمرل شفاعت علی نے کہا کہ بھارت نے بحری بیڑا تعینات کرنے کی کوشش کی، بھارت کو اپنی بحری طاقت پر بہت ناز تھا، بھارتی بحریہ ہر طرح سے لیس تھی لیکن جارحیت کی ہمت نہ کر سکی۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاک بحریہ اور پاک فضایہ مل کر دشمن کو تباہ کرنے کے لئے تیار تھے، اس دوران ہماری بندرگاہیں، تنصیبات محفوظ اور فعال رہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں مگر اسے کمزوری نہ سمجھا جائے، معرکہ حق میں ہماری ہم آہنگی بے مثال فتح کے سبب بنی، ہمارے بحری اثاثے سمندر میں محفوظ ہیں۔
