اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے خود کو ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں کسی بھی مشکل صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندری امور کے اجلاس میں کیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت ایم این اے عبدالقادر پٹیل نے کی۔ قادر پٹیل نے ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے خطے کی ناگفتہ بہ صورتحال کے دوران بندرگاہوں پر شاندار کارکردگی پر وزارت بحری امور کی تعریف کی۔ وزیر بحری امور نے مثبت رہنمائی پر کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی اور پچھلی سفارشات پر عمل درآمد کی صورتحال سے متعلق جامع رپورٹس کے بارے میں ایجنڈا کے آئٹم نمبر 2 پر غور کیا۔ کمیٹی نے ہر سفارش کا الگ الگ جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کمیٹی کی جانب سے دی کراچی پورٹ ٹرسٹ (ترمیمی) بل، گوادر پورٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل اور پورٹ قاسم اتھارٹی (ترمیمی) بل میں تجویز کردہ ترامیم کو قانون و انصاف ڈویژن کی تجویز پر وزارت خزانہ کے
ساتھ شیئر کیا گیا ۔ وزارت خزانہ کی رائے کو غور کے لیے کمیٹی کے سامنے رکھا گیا۔ سفاری کے ڈبے رکھنے کے معاملے کی انکوائری رپورٹ بھی کمیٹی کے سامنے رکھی گئی۔ کے۔ایس اور ای۔ڈبلیو سے جہازوں کی خریداری پر اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ بھی کمیٹی کے سامنے رکھی گئی اور کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیپرا کے قوانین کی شق کو مکمل طور پر دیکھا گیا ہے۔ کمیٹی نے تمام بلوں پر غور کیا، یعنی پورٹ قاسم اتھارٹی (ترمیمی) بل 2025؛ گوادر پورٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل، 2025؛ اور کراچی پورٹ ٹرسٹ (ترمیمی) بل 2025۔ تفصیلی غور و خوض اور بحث کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر تمام بلوں کو اپنی اگلی میٹنگ تک موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے وزارت کو قانون و انصاف ڈویژن سے مشورہ لینے کی سفارش کی کہ "کے۔پی۔ٹی ایک ٹرسٹ ہے اور کیا اس پر ریاستی ملکیتی کاروباری اداروں (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023 کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟” اجلاس میں ایم این اے ملک شاکر بشیر اعوان، ایم این اے محترمہ رومینہ خورشید عالم، ایم این اے مسٹر اسفانیار، ایم این اے بھنڈارا، ایم این اے پلین بلوچ، ایم این اے حسن صابر، ایم این اے احمد عتیق انور، ایم این اے جام عبدالکریم بجڑ، ایم این اے سید رفیع اللہ، ایم این اے سردار نبیل احمد گبول، ایم این اے وفاقی وزیر برائے سمندری امور اور سیکرٹری کے علاوہ میری ٹائم افیئرز کی وزارت، پی۔کیو ٹی، پی۔این ایس سی، اور جی۔پی۔اے کے افسران اور عملے نے اجلاس میں شرکت کی۔
