اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):نائب وزیر اعظم /وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کا ردِعمل متوازن، قانونی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا جس میں صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا،جموں و کشمیر کا تنازعہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور اس کے منصفانہ حل کے لئے اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں اقدامات کی ضرورت ہے۔نائب وزیرِاعظم/وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے منگل کے روز سفارتی کور کو معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر بریفنگ دی اور اسے پاکستان کے اتحاد، استقامت اور مسلح افواج کے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی علامت قرار دیا۔انہوں نے زور دیا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کا ردِعمل متوازن، قانونی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھا جس
میں صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، انہوں نے کشیدگی میں اضافے، شہریوں کو نقصان اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش خطرات سے بھی آگاہ کیا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس بات کا اعادہ کیا کہجموں و کشمیر کا تنازعہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور اس کے منصفانہ حل کے لئے اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو متاثر کرنے والی یکطرفہ کارروائیوں کے خلاف بھی خبردار کیا اور کثیرالجہتی تعاون، امن مشنز اور عالمی روابط کے لئے
پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔نائب وزیرِاعظم/وزیرِ خارجہ نے شرکاء کو خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں اور امن کے فروغ کے لئے پاکستان کے سہولت کار اور ثالثی کردار سے بھی آگاہ کیا۔اختتام پر انہوں نے جنوبی ایشیا میں مکالمے، سفارتکاری اور پرامن بقائے باہمی کے لئے پاکستان کے عزم کو دہرایا جبکہ ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے تحفظ کے لئے قوم اور مسلح افواج کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ یہ بریفنگ اہم علاقائی اور عالمی پیشرفت پر سفارتی کور کے ساتھ نائب وزیرِاعظم/وزیرِ خارجہ کی باقاعدہ مشاورت کا حصہ تھی۔
