اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائےموسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف فنانس اینڈ سسٹین ایبلٹی چین کے صدر مسٹر ما جون نے ملاقات کی۔پیر کووزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران ما جون نے وفاقی وزیر کو چین کے گرین ایکسلریٹر پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دی جو 2016 میں 35 جامع پالیسی سفارشات پر مشتمل ایک فریم ورک کے تحت شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ چین نےاس پروگرام کے تحت دنیا کا سب سے بڑا گرین فنانسنگ نظام قائم کیا ہے جس کا حجم تقریبا7ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔چین اس وقت دنیا میں ہوا اور شمسی توانائی کے آلات کی تقریباً 70 فیصد پیداوار جبکہ عالمی الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد حصہ فراہم کر رہا ہے۔مسٹر ما جون نے وضاحت کی
کہ گرین ایکسلریٹر پروگرام کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی، فنانس،کاربن مارکیٹس اور منصوبہ سازی کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قابلِ سرمایہ کاری (بینک ایبل) گرین منصوبے تیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے قابلِ عمل اور تجارتی بنیادوں پر پائیدار موسمیاتی حل سامنے لائے جا سکتے ہیں۔ملاقات کے دوران مختلف ممالک میں گرین ٹیکنالوجیز اور منصوبوں کے عملی اطلاق پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ان میں بنگلہ دیش میں جوٹ کی لکڑی سے بایوچار کی پیداوار، چین اور ازبکستان میں سمارٹ اور مؤثر آبپاشی نظام، اور ابوظہبی میں پائیدار صحرائی زراعت کے منصوبے شامل ہیں۔اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید اور اختراعی حل کومقامی حالات کے مطابق ڈھالنا اور ان کی مالی پائیداری کو یقینی بنانا نہایت اہم ہے۔وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے مسٹر ما جون کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کےاقدام "گرین فیلڈز”بارے آگاہ کیا، جس کا مقصد گرین منصوبوں پر کام کرنے والے نوجوان کاروباری افراد کو قومی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے منسلک کرنا ہے۔اس اقدام کے ذریعےپاکستان میں گرین انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا اور نوجوانوں کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع پیدا کرنا مقصود ہے۔وفاقی وزیر نے گرین فنانس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عملی، قابلِ توسیع اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ موسمیاتی حل کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک سبز اور پائیدار معیشت کی جانب منتقلی کے لیے عالمی تجربات اور شراکت داریوں سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔

