اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت پائیدار ماہی گیری کے فروغ، سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ذمہ دارانہ ٹونا شکار کے ذریعے معاشی ترقی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔عالمی یومِ ٹونا آج ’’ٹونا کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں‘‘کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اپنے بیان میں وزیر بحری امور نے کہا کہ ٹونا مچھلی عالمی غذائی تحفظ، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جس کے پیش نظر حکومتوں، صنعتوں اور صارفین کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ ٹونا، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2016 میں قائم کیا، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حد سے زیادہ شکار کی روک
تھام، پائیدار طریقہ کار کے فروغ اور مستقبل کے لیے ٹونا کے ذخائر کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے ماہی گیری کے شعبے کو عالمی تحفظاتی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ پہلی بار پاکستان کو انڈین اوشن ٹونا کمیشن سے 25 ہزار میٹرک ٹن کا کوٹہ حاصل ہوا ہے، جس میں 15 ہزار ٹن ییلوفن ٹونا اور 10 ہزار ٹن سکیپ جیک شامل ہیں۔اس پیش رفت سے تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔انہوں نے کہا کہ سالانہ 45 ہزار ٹن سے زائد شکار کے باوجود ایک بڑا حصہ فشنگ کے غیر منظم طریقوں کے باعث ضائع ہوتا ہے، تاہم حکومت قومی فشریز و ایکوا کلچر پالیسی کے نفاذ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر ے گی، جس سے نہ صرف قواعد و ضوابط بہتر ہوں گے بلکہ آمدن میں اضافہ اور عالمی موسمیاتی و تحفظاتی تقاضوں کی تکمیل بھی ممکن ہوگی۔محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ عالمی سطح پر ماہی گیری کے نظم و نسق میں پاکستان کا کردار مضبوط ہو رہا ہے، اور وزارت بحری امور کے ایک سینئر افسر کا انڈین اوشن ٹونا کمیشن کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انتظامیہ و مالیات کا چیئرمین منتخب ہونا ایک اہم سنگِ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بتدریج نقصان دہ طریقہ ہائے شکار جیسے گل نیٹنگ اور ٹرالنگ کا خاتمہ کر رہی ہے اور ان کی جگہ جدید لانگ لائننگ تکنیک متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ غیر مطلوبہ شکار میں کمی اور سمندری ماحولیاتی نظام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے تعاون سے مقامی ماہی گیروں کو جدید آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔وزیر بحری امور نے کہا کہ برآمدی شعبے میں اصلاحات کے باعث سرٹیفکیشن سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کورنگی سمیت ماہی گیری کی بندرگاہوں پر انفراسٹرکچر کی بہتری سے خصوصاً یورپی منڈیوں کے لیے برآمدی صلاحیت مزید بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹونا سیکٹر ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں پائیدار کوٹے، پالیسی اصلاحات اور مضبوط عالمی شراکت داریوں کے ذریعے طویل المدتی معاشی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور زرِ مبادلہ میں اضافے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

