اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ایک اہم کارروائی کے دوران سیلز ٹیکس فراڈ، سائبر ہیکنگ اور مبینہ اندرونی ملی بھگت پر مبنی ایک بڑے منظم نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ہے جس کے ذریعے ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا میں غیر قانونی تبدیلیاں کر کے کروڑوں روپے کے ٹیکس کریڈٹ میں خورد برد کی گئی۔سرکاری رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک ٹیکس دہندہ کے IRIS پروفائل تک غیر قانونی رسائی حاصل کرتے ہوئے اکتوبر 2025 کی سیلز ٹیکس ریٹرن میں رد و بدل کیا۔اس دوران 415.6 ملین روپے کی جعلی سپلائز ظاہر کی گئیں جس کے نتیجے میں 74.8 ملین روپے کے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا اثر پڑا اور متعلقہ ٹیکس دہندہ کا مکمل ان پٹ ٹیکس کریڈٹ ختم ہو گیا۔متاثرہ ٹیکس دہندہ نے فیڈرل ٹیکس محتسب سے رجوع کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات، جعلی انوائسز کے خاتمے، ٹیکس کریڈٹ
کی بحالی اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ کارروائی ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کی گئی جس میں ممکنہ طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) سے وابستہ بعض عناصر کی معاونت بھی شامل ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق حساس ٹیکس ڈیٹا تک اندرونی رسائی کے بغیر اس نوعیت کی کارروائی ممکن نہیں۔مزید برآں سائبر جرائم پیشہ عناصر نے غیر فعال اور بلیک لسٹڈ ٹیکس دہندگان کے علاوہ ان اداروں کو بھی نشانہ بنایا جن کے پاس زیادہ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ موجود تھا۔ جعلی لین دین کا دائرہ کار کراچی، لاہور، ملتان، کوئٹہ اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں تک پھیلا ہوا پایا گیا جہاں متعدد افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ایف ٹی او نے واضح کیا کہ فراڈ کے ذریعے ایڈجسٹ کیا گیا ٹیکس کریڈٹ سپلائی چین میں منتقل ہو چکا ہے، اس لئے مکمل تحقیقات اور اصل ذمہ داران کے تعین سے قبل اس کی فوری بحالی ممکن نہیں۔ٹیکس محتسب نے اس معاملے کو بدانتظامی قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کو جامع تحقیقات کی ہدایت کی ہے، جبکہ بڑے ٹیکس دفاتر کے چیف کمشنرز کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ایف بی آر کے بزنس پراسیس ری انجینئرنگ (بی پی آر ) یونٹ کو سسٹم میں بہتری کے لئے فوری سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن میں لاگ اِن معلومات، موبائل نمبر، CNIC اور بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کو مزید سخت بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ایف بی آر کو 60 دن کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، جس میں تحقیقات کی پیش رفت اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔یہ کیس ملک کے ڈیجیٹل ٹیکس نظام میں موجود سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے اور سائبر سکیورٹی و داخلی احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

