اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے سینئر مشیر برائے نظم و ضبط نصیر میمن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے معاملہ کو مؤثر طریقہ سے بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے تاکہ بھارتی آبی جارحیت اور معاہدہ کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ وسیع تر عالمی حمایت بھی حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے معاہدہ کے حوالے سے بھارتی کے اقدامات کو ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کے اقدامات سندھ طاس معاہدہ معاہدہ کی روح کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ ’’اے پی پی ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو خصوصاً دریا کے بہاؤ کی نچلی سمت والی ریاست کے طور پر پانی کی تقسیم کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق اپنے آبی حقوق کے تحفظ
کو یقینی بنانا ہو گا۔ نصیر میمن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پانی کے حقوق کا تحفظ ملک کی طویل مدتی آبی دستیابی اور زرعی استحکام کے لئے بھی از حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اس معاملہ کو اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر اٹھا چکی ہے تاہم انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ کے فریم ورک کے تحت نچلے دریا کے حقوق پر سختی سے عمل کرنے کا باضابطہ مطالبہ کرنا چاہئے۔آبی ماہر نے سفارتی کوششوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان اس معاملہ میں عالمی برادری کو زیادہ موثر انداز میں شامل کرے اور پاکستان کا موقف پیش کیا جائے۔ مزید برآں انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پانی کی پیداواری صلاحیت اور وسائل کے انتظام کو بہتر بنانے کے لئے جدید حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کو اپنا کر اندرونی اصلاحات پر بھی توجہ مرکوز کی جائے۔اپنی گفتگو کے اختتام پر نصیر میمن نے نتیجہ اخذ کیا کہ سندھ طاس آبی معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے انتظامات کا ایک سنگ بنیاد ہے اور اس سے منسلک کوئی بھی تنازعہ علاقائی استحکام اور آبی سلامتی کے لیے اہم مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے

