اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی اور صحت ک شعبے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر حکومت نے علاج پر مبنی نظام سے ہٹ کر بیماریوں سے بچائو پر مرکوز حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحت و غذائیت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ آبادی تقریباً 24 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہر سال لاکھوں بچوں کی پیدائش صحت کے نظام پر دبائو میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے جس کے باعث روایتی انداز میں صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور ادویات کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر بڑی تعداد میں لوگ بیک وقت بیمار ہوں تو دنیا کا کوئی بھی ملک اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا، جیسا کہ COVID-19 کے دوران دیکھا گیا جب ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے نظام بھی شدید دبائو کا شکار ہو گئے۔ اس تناظر میں پاکستان کے صحت کے نظام کو ’’سک کیئر‘‘ سے ’’ہیلتھ کیئر‘‘ یعنی بیماری کے بعد علاج کے بجائے بیماری سے پہلے بچائو کی جانب منتقل کرنا وقت کی
اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔حکومت نے ماہرین اور بین الاقوامی شراکت داروں کی مشاورت سے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت صحت کے نظام کو ہسپتالوں کی حدود سے باہر نکال کر بنیادی سطح پر مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس میں خاندانی منصوبہ بندی، پیدائش میں مناسب وقفہ، صاف پانی کی فراہمی، حفاظتی ٹیکہ جات، متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ادویات اور علاج کے شعبے میں تحقیق کے فروغ کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے جہاں خوراک، غذائیت اور پودوں سے حاصل ہونے والی ادویات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان میں ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے جو روایتی اور جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات کی سائنسی جانچ، کلینیکل ٹرائلز اور معیار کو یقینی بنانے میں معاونت فراہم کرے گا تاکہ صارفین اور صنعت دونوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔تقریب سے خطاب کے دوران ممتاز سائنسدان اقبال چوہدری کی خدمات کو سراہا گیا اور انہیں پاکستان میں سائنسی تحقیق اور جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت قرار دیا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس اب مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں اور ’’ٹرائل اینڈ ایرر‘‘ کی پالیسی ناقابل عمل ہو چکی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازی میں ابتدا ہی سے درست سمت کا تعین
ناگزیر ہے تاکہ قیمتی وقت اور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔مزید برآں دنیا بھر میں فروغ پانے والے ’’لائف سٹائل میڈیسن‘‘ کے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خوراک، غذائیت اور روایتی طریقہ علاج جیسے جڑی بوٹیوں، چینی اور یونانی طب کو جدید سائنسی بنیادوں پر فروغ دیا جا رہا ہے اور پاکستان بھی اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے پاکستان کے عالمی کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے قومی قیادت خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہےاور دنیا کی نظریں اس پر مرکوز ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی توجہ کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں، لہٰذا یہ وقت صرف کامیابیوں پر خوش ہونے کا نہیں بلکہ سنجیدگی، حکمت عملی اور قومی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنے داخلی نظام کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اور موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

