• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے واٹر سپورٹس خطرات سے دوچار

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 26, 2026
in پاکستان
0
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے واٹر سپورٹس خطرات سے دوچار
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پشاور۔ ( نمائندہ خصوصی)بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے زندگی کے ہر شعبے کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے، ان اہم ترین شعبوں میں واٹر سپورٹس کا شعبہ بھی شامل ہے جس کو بھارتی خلاف ورزیوں کی وجہ سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ آبی سیاحت کے دلدادہ 28 سالہ سیاح ذیشان خان واٹر سپورٹس کے مستقبل کے بارے خدشات کا اظہار کیاہے اور وہ نوشہرہ خیر آباد کے مقام پر کنڈ کے واٹر سپورٹس جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر ملے جلے جذبات کے ساتھ دریائے سندھ کی لہروں کو بغور دیکھ رہے ہیں۔دریائے سندھ اور کابل کا سنگم طویل عرصے سے موسم گرما میں گرمی سے بچنے کےلیے ان کی ہفتہ وار تفریح گاہ رہا ہے لیکن آج وہ غیر یقینی کی صورتحال کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جس کی وجہ گزشتہ سال اپریل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کیے جانے کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد واٹر سپورٹس کو لاحق خطرات ہیں۔ ذیشان خان ہر اتوار اپنے خاندان کو کنڈ سپورٹس پارک لاتے ہیں جہاں جھیل کے اوپر رنگ برنگی کشتیاں تیرتے ہوئے دیکھ کر بچوں کے قہقہے گونجتے ہیں۔ ان کےلیے یہ محض تفریح نہیں بلکہ خوشی کا ایک ذریعہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کنڈ میری پسندیدہ واٹر سپورٹس جھیل ہے۔ یہاں آپ کابل اور سندھ دونوں دریاؤں کی سیر کر سکتے ہیں اور اس کا ایک الگ ہی احساس ہے۔ لیکن اس خوشی کے ساتھ ان پانیوں کے مستقبل اور ان سے جڑی روزی روٹی کے بارے میں ایک بڑھتا ہوا خوف بھی ہے جو کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہنے کی صورت میں شدید خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ کنڈ خصوصاً ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران نوشہرہ، چارسدہ، پشاور اور مردان کے اضلاع سے آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ سیر کرنے والے خاندان یہاں کشتی رانی، جھولوں، گھڑ سواری، اونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور نیلے اور مٹیالے پانی کے اس فطری ملاپ کے نایاب تعلق کا عملی مشاہدہ کرتے ہیں جو دیکھنے والوں کے لئے لطف کا احساس اور غریب ملاحوں کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔وہ پاکستان کےلیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والے دریائے سندھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ جھیلیں خشک ہو گئیں یا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے غیر متوقع طور پر سیلاب آ گیا تو واٹر سپورٹس کے شوقین کہاں جائیں گے؟۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ درجنوں کشتیاں، جو اکثر غریب خاندانوں کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہوتی ہیں، دریائے سندھ میں بہہ گئیں۔ متاثر ہونے والوں میں 32 سالہ ملاح عمر علی بھی شامل تھے۔ عمر علی کہتے ہیں کہ میں 12 سال سے اس کٹھن کاروبار میں ہوں۔ وہ کشتی ہی میرا سب کچھ تھی جب وہ چلی گئی تو میرا ذریعہ معاش بھی ختم ہو گیا۔ خیبر پختونخوا میں دریا محض قدرتی وسائل نہیں بلکہ وہ زندگی کی لکیریں ہیں، کشتی رانی اور ماہی گیری سے لے کر سیاحت اور نقل و حمل تک ہزاروں افراد سارا سال ان کے مستقل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔اس خطے کے پانی سرگرمیوں کی ایک وسیع رینج پیش کرتے ہیں۔ان میں شمال میں وائٹ واٹر کایاکنگ، سکردو اور شگر میں رافٹنگ، تربیلا میں کشتی رانی، اور خانپور جھیل پر ایڈونچر سپورٹس شامل ہیں۔ لیکن ان سب کا دارومدار صرف پانی پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب پانی نہیں ہوتا تو سیاحت بھی نہیں ہے اور اس کا مطلب بے روزگاری اور غربت ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم میں پانی کے غیر منظم بہاؤ کے زراعت، خوراک، بجلی کی پیداوار اور سیاحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پانی کی سطح میں کمی جھیلوں کو خشک کر سکتی ہے اور ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے جبکہ اس کا اچانک اضافہ سیلاب لا سکتا ہے۔ یہ خدشات ہندوتوا مودی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی سے جڑے ہوئے ہیں جو کہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا ایک تاریخی معاہدہ ہے۔ قانونی ماہر ملک اشفاق سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جنگوں اور سیاسی تناؤ کے باوجود برقرار رہا ہے۔ کوئی ملک اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ اسے کمزور کرنا علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ قانونی فیصلوں نے معاہدے کی توثیق کی ہے لیکن پانی کے بہاؤ میں بے قاعدگیوں پر تشویش برقرار ہے جیسا کہ پوری دنیا نے گزشتہ سال دریائے چناب میں دیکھا۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی جیسے ماہرین کےلیے یہ مسئلہ تفریح سے کہیں آگے انسانی حقوق کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ زراعت، غذائی تحفظ اور لاکھوں زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے حالیہ مہینوں میں دریا کے بہاؤ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کی اور خبردار کیا کہ ایسی تبدیلیاں خواہ وہ قدرتی ہوں یا انسانی مداخلت کا نتیجہ، گندم اور چاول کی کاشت جیسے اہم زرعی ادوار کے دوران سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں ماحولیاتی خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا پگھلنا اور پانی کی بدانتظامی خشک سالی، آلودگی اور ماحولیاتی عدم توازن کا باعث بن سکتی ہے۔ چائے فروشوں اور فوٹوگرافروں سے لے کر گائیڈز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز تک پوری کمیونٹیز سیاحت اور پانی کے مستقل بہاؤ پر انحصار کرتی ہیں اور کنڈ جیسے مقامات پر یہ بہاؤ اب غیر یقینی ہے۔ سیاح ذیشان خان کہتے ہیں کہ سیاحت کا انحصار پانی پر ہے۔ اگر جھیلیں سکڑ گئیں یا آبشاریں غائب ہو گئیں تو لوگ اپنی ملازمتیں کھو دیں گے۔کنڈ میں بچوں کے قہقہے دریا کے کناروں پر جاری ہیں، کشتیاں اب بھی پانی پر تیر رہی ہیں اور زندگی فی الحال رواں دواں ہے۔ اس خطے کے لوگوں کی یہی امید ہے کہ دریا بہتے رہیں تاکہ نہ صرف دلکش مناظر کو برقرار رکھا جا سکے بلکہ ان لاتعداد زندگیوں کو بھی جو ان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں کیونکہ یہاں پانی محض فطرت نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی بقا ہے۔

پچھلی پوسٹ

محترمہ فرح عظیم شاہ کا رکن قومی اسمبلی اعجاز خان جھکرانی کے صاحبزادے کے انتقال پر اظہار تعزیت

اگلی پوسٹ

سردارایاز صادق کی سینئر صوبائی وزیرمریم اورنگزیب سے ملاقات،صوبے کی ترقی،جاری منصوبوں و پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
سردارایاز صادق کی سینئر صوبائی وزیرمریم اورنگزیب سے ملاقات،صوبے کی ترقی،جاری منصوبوں و پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال

سردارایاز صادق کی سینئر صوبائی وزیرمریم اورنگزیب سے ملاقات،صوبے کی ترقی،جاری منصوبوں و پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper