اسلام آباد:( نمائندہ خصوصی)پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے (سپارکو )نے مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو-آپٹیکل سیٹلائٹتائی یوان سیٹلائٹ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا، جو ملک کی خلائی صلاحیتوں میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔اپنے بنیادی امیجنگ مشن EO-3 میں جدید تجرباتی آلات بھی شامل ہیں جن کا مقصد آئندہ نسل کی خلائی ٹیکنالوجیز کی جانچ کرنا ہے۔ ان میں بہتر تصویری درستگی کے لیے ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول، ایک جدید توانائی
ذخیرہ کرنے کا نظام اور حقیقی وقت میں تجزیہ اور فیصلہ سازی کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس آن بورڈ ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ شامل ہیں ۔ہفتہ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق EO-3 کی پاکستان کے ارتھ سیٹ بیڑے میں شمولیت سینسنگ کے شعبے میں قومی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ مربوط نظام ڈیٹا کے تسلسل، امیجنگ کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور تجزیاتی درستگی کو بہتر بنائے گا، جس سے پاکستان کے مختلف سماجی و معاشی شعبوں میں معاونت حاصل ہوگی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس اہم کامیابی پر سپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو
سراہا۔انہوں نے پاکستان کے خلائی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور اس شعبے میں چین کے مسلسل تعاون کو خراج تحسین پیش کیا ۔نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار نے بھی مبارکباد دی اور سپارکو کی فنی مہارت اور لگن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس کامیاب لانچ کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیت کا مظہر قرار دیا اور خلائی شعبے میں ملک کی موجود ہ صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

