لاہور( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے سرکاری افسران پر زور دیا ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں شواہد پر مبنی طریقہ کار اپنائیں اور عوامی فلاح کو اپنی ترجیحات کا محور بنائیں، کیونکہ پاکستان کے مستقبل کی تشکیل میں ان کا کردار نہایت اہم ہے، وہ جمعہ کونیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے ذیلی ادارے پاکستان ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کالج میں 124ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کی گریجویشن تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سول سروس ملک کا ایک انتہائی باصلاحیت اور مقابلے کے عمل سے گزر کر آنے والا ادارہ ہے، جس میں متنوع تجربات اور صلاحیتوں کے حامل افسران شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارغ التحصیل افسران کے پاس اب ایسے فیصلے کرنے کا موقع ہے جو حکمرانی کے نظام اور
عوامی بہبود میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔انہوں نے قدرتی آفات کے دوران پاکستان کی مزاحمت اور سول سروس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں افسران نے امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی پیش رفت کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ تاہم وفاقی وزیر نے انسانی ترقی کے شعبے میں موجود کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کیا، جن میں کم شرحِ تعلیم، صاف پانی کی عدم دستیابی اور صحت کے کمزور اشاریے شامل ہیں۔ انہوں نے ان مسائل کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انتظامی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ طریقہ کار پر حد سے زیادہ توجہ اہم منصوبوں میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ طریقہ کار کے بجائے نتائج کو ترجیح دیں اور رائے کے بجائے شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور افسران کو مصنوعی ذہانت سمیت جدید آلات سے خود کو آراستہ کرنے کی تلقین کی تاکہ حکمرانی اور پالیسی سازی کے عمل کو موثر بنایا جا سکے، اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے افسران کو جرات، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دینے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بامعنی اصلاحات اور بہتر عوامی خدمات ان کی قیادت اور عزم سے ہی ممکن ہیں۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے کامیاب افسران کو مبارکباد دی اور اسناد تقسیم کیں۔ 124ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے تحت مجموعی طور پر 46 افسران نے گریجویشن مکمل کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی و ریکٹر این ایس پی پی فرحان عزیز خواجہ، سابق ریکٹرز اسماعیل قریشی اور خالد محمود سمیت افسران کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔
