• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home انٹرنیشنل افیئرز

جے ڈی وینس کا دورہِ پاکستان منسوخ: ٹرمپ کا مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘امریکی صدر ٹرمپ      ’ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی ہے۔‘  ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کاایکس پر ہی جاری بیان 

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 22, 2026
in انٹرنیشنل افیئرز, پاکستان
0
جے ڈی وینس کا دورہِ پاکستان منسوخ: ٹرمپ کا مذاکرات کے کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بندی میں توسیع اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد لندن نیویارک ( نمائندہ خصوصی.انٹرنیشنل ڈیسک  بی بی سی اردو ڈاٹ کام)وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا امن مذاکرات کے سلسلے میں مجوزہ دورہِپاکستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔وینس اس ماہ دوسری مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے تھے اور بدھ کے روز ان کی آمد متوقع تھی۔وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان اور امن مذاکرات سے متعلق تفصیلات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کی جائیں گی۔امریکی نائب صدر کے دورہِ پاکستان کی منسوخی کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی پاکستانی درخواست منظور کر لی ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور اسی طرح یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘ایکس پر جاری ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’کسی تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔‘اُن کا اپنے پیُام میں مزید کہنا تھا کہ ’ایران جانتا ہے کہ پابندیوں کو کیسے بے اثر کرنا ہے، اپنے مفادات کا کیسے دفاع کرنا ہے اور دباؤ کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔‘واضح رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں شمولیت کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا ہے۔تاہم دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان ایرانی حکام کی جانب سے تاحال جواب کا منتظر ہے۔‘ایکس پر اپنے پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے صورتِ حال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔تقریباً 45 منٹ قبل صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کو ٹی وی کیمروں نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ان کی وائٹ ہاؤس قابلِ توجہ ہے۔ اس سے قبل ہمیں معلوم پڑا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی تھی کہ وینس، وٹکوف اور کشنر تینوں کی ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے اسلام آباد جانے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ کو بھی عمارت میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے جبکہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی وہاں موجود ہیں۔آج وائٹ ہاؤس اور نائب صدر کے دفتر کی جانب سے غیر معمولی طور پر خاموشی رہی ہے، نہ تو اس دورے کے حوالے سے کوئی واضح تصدیق سامنے آئی ہے اور نہ ہی اس بات کا کوئی باضابطہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ دورہ کب ہو گا—یا آیا ہو گا بھی یا نہیں۔بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق آج واشنگٹن میں ایک اور الجھن بھرا دن رہا۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے دیگر اراکین ایرانی مذاکراتکاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے اسلام آباد کب روانہ ہوں گے اور آیا روانہ ہوں گے بھی یا نہیں۔تقریباً آدھے گھنٹے قبل نیو یارک ٹائمز نے صورتِ حال سے واقف ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی مذاکراتی مؤقف پر کوئی جواب نہ دیے جانے کے بعد جے ڈی وینس کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا مذاکراتی ٹیم کی اسلام آباد روانہ ہونے کی توقع ہے یا یہ دورہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔تاہم جو بات ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ جے ڈی وینس نہ تو اس وقت روانہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی ہوائی اڈے پر موجود ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے عملے نے متعدد خبر رساں اداروں کو اس کی تصدیق کی ہے کہ وینس اس وقت وائٹ ہاؤس میں پالیسی اجلاسوں میں شریک ہیں۔ باہر ٹی وی کے لیے لائیو رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے کچھ دیر قبل ان کے قافلے کو وائٹ ہاؤس پہنچتے ہوئے بھی دیکھا۔ادھر یہ بھی خاصی الجھن پائی جاتی ہے کہ جنگ بندی کس وقت ختم ہو گی۔ پاکستان نے آج کہا تھا کہ جنگ بندی کی میعاد پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اس سے تقریباً 24 گھنٹے بعد ختم ہو گی۔یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ نے جنگ بندی کے خاتمے کا کوئی مخصوص وقت مقرر کیا ہے یا نہیں، کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ بدھ کی شام ختم ہو گی۔یہ بھی ممکن ہے کہ جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی سرکاری اعلان ٹروتھ سوشل کے ذریعے سامنے آئے یا پھر ایران پر حملوں کی اطلاعات کے ساتھ اس بارے میں ہمیں پتا چلے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق معاملے میں مزید مہلت لینے کا فیصلہ کیا ہے۔منگل ابر بدھ کی درمیانی شب ان کے اعلان کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے انھوں نے وہ ڈیڈ لائن مؤخر کر دی ہے جو انھوں نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے دی تھی، بصورت دیگر بدھ کے روز جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔جنگ بندی میں توسیع کے ذریعے ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف دوبارہ شدید فضائی حملے شروع کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل نہیں کیا تاہم اس فیصلے نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں انھیں ایک بار پھر اسی فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب یہ نہیں واضح کیا کہ نئی جنگ بندی کی مدت کتنی ہوگی، صرف یہ کہا کہ وہ ایران کو مزید وقت دے رہے ہیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’متحدہ تجویز‘ پیش کر سکے۔یہ دو ہفتوں میں دوسری بار ہے جب ٹرمپ نے جنگ میں اضافے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس تنازع کو ختم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کو اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متحدہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ’لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔‘بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔‘دریں اثناءاسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔اب سے کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ذاتی حیثیت میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی پاکستانی درخواست کو قبول کیا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر پاکستان خطے میں جاری اس تنازع کے مذاکرات کی مدد سے حل کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘وزیر اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں امید ظاہر کی کہ ’دونوں فریق جنگ بندی کی پابندی جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع امن معاہدہ طے پانے کی طرف بڑھیں گے، جس کا مقصد تنازع کا مستقل خاتمہ ہے۔‘دریں اثناءایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایرو سپیس کمانڈر میجر جنرل مجید موسوی نے منگل کے روز ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات ایران کے خلاف استعمال ہوئیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ان کی سرزمین یا تنصیبات کو ایرانی قوم کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کیا گیا تو انھیں مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار بُری طرح متاثر ہوگی۔‘موسوی نے مزید کہا کہ ’اگر اب کے بعد دشمن نے ذرا سی بھی غلطی کی‘ اور ایران پر حملہ کیا تو ’جہاں آپ یعنی ایرانی عوام کہیں گے وہی ہمارا ہدف ہوگا۔‘قبل ازیںاقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے کچھ دیر قبل مجھ سمیت چند صحافیوں کو بتایا ہے کہ تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ ہوتا ہے، مذاکرات کے اگلے دور کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا۔میں نے ان سے جے ڈی وینس کا دورہ ’موخر‘ کیے جانے کے متعلق سوال کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کی شرط یہ ہے کہ بات چیت کے دوبارہ آغاز سے پہلے امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرےان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، اور اگر وہ جنگ چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔

پچھلی پوسٹ

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی والدہ کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار

اگلی پوسٹ

پی ایس ایل، لاہور قلندرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 9 رنز سے شکست دے دی

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پی ایس ایل، لاہور قلندرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 9 رنز سے شکست دے دی

پی ایس ایل، لاہور قلندرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 9 رنز سے شکست دے دی

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper