اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے میڈیکل طالبہ کی خودکشی کے افسوسناک واقعے کا جائزہ لینے کے لیے ابتدائی سماعت منعقد کی جس کا تعلق مبینہ طور پر ہراسانی سے بتایا جا رہا ہے۔پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار ڈاکٹر ریحان نقوی نے ان واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں ہراسانی اور غفلت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔پیر کو تین ابتدائی سماعتیں منعقد کی گئیں تاکہ معاملات کا منصفانہ اور جامع جائزہ لیا جا سکے، اس سے قبل کہ کوئی باضابطہ تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔متعلقہ اداروں کے نمائندگان سمیت تمام فریقین کو طلب کیا گیا تاکہ حقائق کو واضح طور پر سامنے لایا جا سکے۔ صدر پی ایم ڈی سی نے ابتدائی شواہد کا بغور جائزہ لیا اور اہم
نکات کی تصدیق کے لیے متعلقہ نمائندگان سے وضاحتیں طلب کیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا کیسز کو مزید کارروائی کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کو بھیجا جا سکتا ہے یا نہیں۔پہلی سماعت ’’او ٹی ویڈیو لیک سکینڈل‘‘ سے متعلق تھی جس میں پانچ ڈاکٹرز ڈاکٹر طیبہ فاطمہ، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر محمد عیسیٰ، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر ماہم امین پیش ہوئے۔یہ واقعہ لاہور کے لیڈی ویلنگٹن ہسپتال کے پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی جانب سے ایک نامناسب ویڈیو کے سوشل میڈیا پر پھیلائو سے متعلق تھا جس میں دو آپریشن ٹیبلز پر سرجری کے دوران مقابلہ دکھایا گیا اور غیر سنجیدہ تبصرے کیے گئے۔دوسری سماعت لاہور کے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی فائنل ایئر ایم بی بی ایس طالبہ فریحہ کی خودکشی کے افسوسناک واقعے سے متعلق تھی جس میں کالج کے پرنسپل نے پیش ہو کر حقائق بیان کیے۔تیسری سماعت میرپورخاص کے محمد میڈیکل کالج کی تیسری سال کی ایم بی بی ایس طالبہ فہمیدہ لغاری کی خودکشی کے واقعے سے متعلق تھی جس میں کالج کے پرنسپل نے اپنا موقف پیش کیا۔ابتدائی سماعت کے بعد پی ایم ڈی سی کے صدر نے تمام کیسز کو حتمی فیصلے کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کر دیا جس کا اجلاس آئندہ ہفتے میں کیا جائے گا۔صدر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ کونسل اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسی بھی فرد یا ادارے کی جانب سے غفلت، بدانتظامی یا طلبہ کے تحفظ سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کونسل اداروں میں موثر شکایتی نظام کی اہمیت سے بھی آگاہ ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور طلبہ کے لیے ایک محفوظ اور معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنا پی ایم ڈی سی کی اولین ترجیح ہے۔

