• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

موجودہ جنگ عالمی توانائی کی سپلائی چین اور عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ خود امریکا اور ایران کے لیے بھی تباہ کن ہے، سی جی ٹی این رپورٹ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اپریل 20, 2026
in پاکستان
0
موجودہ جنگ عالمی توانائی کی سپلائی چین اور عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ خود امریکا اور ایران کے لیے بھی تباہ کن ہے، سی جی ٹی این رپورٹ
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بیجنگ( نمائندہ خصوصی):ایران کے خلاف امریکا کی موجودہ جنگ نہ صرف ایران،عالمی توانائی کی سپلائی چین اور عالمی معیشت کے لیے بلکہ خود امریکا کے لیے بھی تباہ کن ہے او ر رواں سال امریکی بجٹ کا خسارہ ممکنہ طور پر 20 کھرب ڈالرسے تجاوز کرسکتا ہے۔ یہ بات سی جی ٹی این کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہی گی۔ سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن، سی سی جی میں سینئر فیلو ہی وی وین کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے 20 مارچ کو کانگرس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے لیے 200 بلین ڈالر کے اضافی دفاعی فنڈز کی منظوری دینے کی درخواست کی ۔ جو رواں سال کے نو سو ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ میں ایک بڑا اضافہ تھا۔ یہ اضافی رقم جرمنی اور برطانیہ کے مجموعی سالانہ دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکاکی معیشت کو ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کی کیاقیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔پینٹاگون کی طرف سے امریکی کانگرس کو فراہم کی گئی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 6 دنوں میں امریکا کے 11.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور اس کے بعد سے اس جنگ پر امریکا کے ایک ارب ڈالر یومیہ یعنی 11500 ڈالر فی سیکنڈ خرچ ہو رہے ہیں۔ اس حساب سے 8 اپریل کو جب دوہفتے کی جنگ بندی ہوئی تو اس وقت تک ایران جنگ پر امریکا کے 30 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے۔دوسری طرف امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں ایک اندازے کے مطابق اعلیٰ ترین ایرانی قیادت کے ساتھ ساتھ 3000 سے زیادہ ایرانی مارے گئے ہیں، لاکھوں متاثر اور بے گھر ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں ہسپتالوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کو مبینہ طور پر نقصان پہنچا ہے۔ براؤن یونیورسٹی کی "جنگوں کی لاگت” کے عنوان سے ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، امریکا نے مالی سال 2001 سے 2022 کے دوران جنگوں پر80کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے۔ ماضی کی طرح موجودہ جنگی پالیسی بھی خود امریکا کو ہی بھاری قیمت ادا کرنے کا باعث بنی ہے۔جنگوں پر بھاری اخراجات سے امریکا کے مالیاتی خسارے کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔امریکی وفاقی بجٹ کو پہلے ہی مالی سال 2025 میں 1.865 ٹریلین ڈالر، یا جی ڈی پی کے 6.2 فیصد کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور مالی سال 2026 میں اس کے19 کھرب ڈالر کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئی ای ای پی اے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے، اس لیےامریکی حکومت کو اس مد میں 16 ارب ڈالر کی آمدنی واپس بھی کرنا ہوگی۔ لہذا حتمی وفاقی بجٹ خسارہ ممکنہ طور پر مالی سال 2026 کے لیے 20 کھرب ڈالرسے تجاوز کر جائے گا۔ اس طرح اضافی فوجی اخراجات کے ساتھ، خسارہ اور بھی بڑھ جائے گا۔اس صورتحال نےامریکی خزانے کے پاس قومی قرض کے طور پر مزید ٹریژری بلز جاری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا ہے۔ 17 مارچ تک، امریکا کے قومی قرضے 390 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئے اور ان مین بدستور اضافہ ہو رہا ۔ اندازہ ہے کہ 2036 تک، امریکا کے مجموعی قرضے 600 کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے جن پر 20 کھرب ڈالرسالانہ سود کی مد میں ادا کرنا ہوں گے اوربجٹ خسارہ 31 کھرب ڈالر، یا جی ڈی پی کا 6.7فیصد ہوجائےگا۔سابق امریکی وزیر خزانہ ہنری پالسن جنہوں نے امریکا کو 2008-2009 کے عالمی مالیاتی بحران سے نکالا تھا نے حال ہی میں ایک سنگین انتباہ جاری کیا کہ امریکی پالیسی سازوں کو قومی قرضوں کے بحران کو روکنے کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کرنا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ممکنہ بحران کے امریکی معیشت پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔عالمی سرمایہ کاروں میں امریکی ٹریژری بلز پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ مسلسل وفاقی مالیاتی خسارہ، ریکارڈ قومی قرضے ، اور افراط زر کے امکانات نے حال ہی میں امریکی خزانے پر دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ امریکی خزانے کو عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس لیے اس پر دباؤ سٹاک، بانڈز، اور مانیٹری مارکیٹوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔امریکا کے وفاقی بجٹ کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ امریکی قرضوں پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہونے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ قرض کا بوجھ فیڈ ریزرو( امریکا کے چار سرکاری بینکوں کے گروپ )کی شرح سود پر منحصر ہے۔ مالی سال 2024 میں، فیڈ ریزرو کی شرح سود 4 فیصد سے زیادہ تھی اورحکومتی قرضوں پر سود کی رقم 11 کھرب 40 ارب ڈالر تھی۔ شرح سود دو اہم اشاریوں پر منحصر ہے ایک 2 فیصد پرکنزیومر پرائس انڈیکس اور دوسرے بے روزگاری کی شرح۔ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکی شہریوں کے لئے مہنگائی میں اضافہ ہو چکاہے۔اس نے آبنائے ہرمز سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل میں خلل پڑا، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے امریکا میں افراط زر میں اضافہ ہوا۔ امریکی محکمہ محنت کے اعدادوشمار نے مارچ میں سی پی آئی کو 3.3 فیصد دکھایا گیا ہے جو فروری میں 2.4 فیصد تھا۔ مہنگائی کے خطرے نے امریکا کے فیڈرل ریزرو کو شرح سود میں کٹوتیوں کو روکنے پر مجبور کیاہے۔اس طرح اس جنگ سے امریکی خاندان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دیگر زندگی کے اخراجات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔مشی گن یونیورسٹی کے مطابق صارفین کا اعتماد ایک ماہ قبل 53.3 کے مقابلے 47.6 تک گر گیا۔یہ ساری صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ جنگ تباہ کن ہے لیکن یہ نہ صرف ایران ، عالمی توانائی کی سپلائی چین اور عالمی معیشت کے لیے بلکہ خود امریکا کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ واحد صحیح آپشن جنگ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کے بہاؤ میں امن بحال کرنے کے لیے ایک سیاسی معاہدہ ہے۔ ایسی صورت میں امریکا کو چاہیے کہ وہ جنگ کے ذریعے جیتنے کے غیر حقیقت پسندانہ خیالوں کو ترک کرے اور عارضی جنگ بندی کے لیے نہیں بلکہ دیرپا امن کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔

مزید خبریں
پچھلی پوسٹ

پاکستان سے 2,687 پاکستانی عازمین حج مدینہ منورہ پہنچ گئے،پرتپاک استقبال

اگلی پوسٹ

عالمی برادری کو بھی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، چینی صدر

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
عالمی برادری کو بھی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، چینی صدر

عالمی برادری کو بھی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، چینی صدر

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper