کراچی ( کرائم رپورٹر)آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھوکی ٹریفک پولیس کراچی کی جانب سے نئے ٹریفک مانیٹرنگ سسٹم سے متعلق آگاہی کے لئے منعقدہ تقریب میں شرکت۔مقامی ہوٹل میں ” An hour with Traffic Police Karachi”کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کارپوریٹ سیکٹرسے وابستہ معروف شخصیات اور پولیس افسران نے شرکت کی۔تقریب میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، اسپیشل برانچ، ڈی آئی جیز ٹریفک کراچی، اسپیشل برانچ، ڈرائیونگ لائسنس، ٹریننگ، آئی ٹی، زونل ٹریفک ایس ایس
پیز، اے آئی جی میڈیا اینڈپبلک ریلیشنز، پی ڈی آئی ٹی اور دیگرپولیس افسران و جوانوں نے شرکت کی۔ کارپوریٹ سیکٹر کی معروف شخصیات میں معید قریشی،دریدقریشی،عرفان صدیقی، اسد علی شاہ، سراج، حسن بلگرانی، ڈاکٹر جنید علی شاہ، عمران شاہ، فرحان عیسی، اطہر، سیکریٹری گورنمنٹ عباس بلوچ، معید راہموں، سی پی ایل سی سے شبرملک اور دنشا آواری شامل تھے۔ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیرمحمدشاہ نے مہمان خصوصی آئی جی سندھ اور دیگرمہمانوں کا استقبال کیا۔تقریب میں ٹریفک پولیس کراچی کی جانب سے روبوکارز،موٹرسائیکلزاورڈرونزبھی پیش کیے گئے۔ڈیجیٹل چالان کے نفاذ اور ٹریفک حادثات کی روک تھام ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، ستر لاکھ گاڑیوں کی مانیٹرنگ روایتی یا دستی طریقوں سے ممکن نہیں
تھی۔مہلک ٹریفک حادثات کی شرح 90 ماہانہ اور اوسطاً 3 یومیہ تک پہنچ چکی تھی، ٹریفک پولیس کراچی کی پانچ ہزار اہلکاروں پر مشتمل نفری معمول کی پولیسنگ اور دیگر مسائل کے لیے تو ناکافی تھی، تاہم الیکٹرانک سرویلنس کے لیے اسے مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا، ہم نے مختلف ممالک کے ٹریفک نظام کا جائزہ لیا اور اسی بنیاد پر ٹریکس (TRACS) کا منصوبہ حکومت کو پیش کیا،حکومت نے اس منصوبے کو فوری طور پر منظور کیا جبکہ گورنر نے اس کی توثیق کی، اس وقت شہر میں ایک ہزار سے زائد فکسڈ کیمرے مختلف شاہراہوں پر نصب کیے جا چکے ہیں، مزید دوہزارسے زائدکیمرے نصب ہونے جارہے ہیں۔ڈی آئی جی ٹریفک نے بریفننگ کے دوران بتایا کہ شہرمیں بیس ہزار سے زائد بڑی گاڑیاں چل رہی ہیں جن میں ٹریکنک سسٹم نصب کروایا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک ٹریفک پولیس کراچی نے سندھ پولیس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹریکس ڈرون اورروبوکارز یونٹ متعارف کرایا ہے۔جسکا مقصد گنجان آباد علاقوں میں فیس لیس چالان کے سلسلے میں افادیت حاصل کرنا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابقفیس لیس چالان TRACKS کی کامیابی میں سندھ پولیس کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کا بھرپور تعاون رہا ہے
جنہوں نے مختلف ایپلیکیشن فراہم کیں جن سے یہ خود کار چالان سسٹم کامیاب ہوا۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ آئی جی سندھ کے وژن کے مطابق 32 سیکشنز میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جدید موبائل ٹیبلیٹس اور ایپلیکیشنز سے لیس کرتے ہوئے ای چالان سسٹم کے مؤثر نفاذ کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے بتایا کہ شہر میں فیس لیس چالان سے بچنے کیلئے نمبر پلیٹس میں ردو بدل جیسے معاملات دیکھنے میں آئے جنکی روک تھام کے حوالے سے خصوصی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے تقریب میں موجود بزنس کمیونٹی سمیت دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔میرا کام سمت کا تعین کرنا اور اپنے محکمے کو درست سمت میں آگے بڑھانا ہے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ سابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے خودکار چالان سسٹم کے حوالے سے بہترین کام کیا،اس نظام کے نفاذ سے قبل محکمہ ایکسائز اور ڈرائیونگ لائسنس برانچز سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ فیس لیس چالان سسٹم کی کامیابی کا سہرا ڈی آئی جی پیر محمد شاہ اور ہمارے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو جاتا ہے، جنہوں نے بھرپور تعاون کیا،فیس لیس چالان سسٹم کے باعث خود احتسابی کا عمل شروع ہوا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے، ۔سندھ پولیس میں کانسٹیبلری کی شرح کم کرکے اے ایس آئی سے لے کر ڈی ایس پی سطح کے افسران کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، آئی جی سندھ نے مزید کہا کہاس سے نہ صرف پولیس کلچر میں تبدیلی آئے گی بلکہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی بہتری ہوگی، آئی جی سندھ نے کہا کہ اب سندھ پولیس بھی دنیا کے دیگر
ممالک کی طرح جدید خطوط پر استوار ہوگی، آئی جی سندھ نے کہا کہ شہر بھر میں سی سی ٹی وی پر مبنی سیکیورٹی نظام کو وسعت دینا ہے، جس کے لیے آپ سب کا مکمل تعاون درکار ہے، جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ فیس لیس چالان سمیت دیگر منصوبوں کی کامیابی پر میں حکومتِ سندھ کا تہہ دل سے مشکور ہوں، جنہوں نے ہمیں مکمل سپورٹ فراہم کی، آئی جی سندھ نے کہاکہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ آئندہ ہفتے جدید ہائی ٹیک کیمروں کے ساتھ حیدرآباد میں بھی اس سسٹم کا آغاز کیا جا رہا ہے،ائی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سڑکوں پر پولیس کی موجودگی کم نظر آئے گی، مگر پولیس کا رسپانس بروقت یقینی بنایا جا سکے گا، ٹریفک پولیس کی ظاہری موجودگی کے بغیر بھی ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، آئی جی سندھ نے کہاشہر بھر میں نصب کیمروں کی مدد سے جرائم کی شرح میں 30 سے 40 فیصد تک کمی آئی ہے، آئی جی سندھ نے کہاکہ کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے میں خصوصی طور پر سی پی کے (CPK)کا شکر گزار ہوں، جن کی کاوشوں سے جرائم کی ڈیٹیکشن میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، آئی جی سندھ نے کہا کہ تمام بینکوں، مارکیٹوں اور کمرشل علاقوں میں نصب کیمروں کو سیف سٹی سسٹم کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے، آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ جس طرح بزنس کمیونٹی نے سندھ پولیس کے ساتھ تعاون کیا ہے، امید ہے کہ آئندہ بھی یہ باہمی اشتراک جاری رہے گا، تقریب کے اختتام پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کے مابین یادگاری شیلڈز کا تبادلہ کیا گیا۔

