کراچی ( نمائندہ خصوصی)صدر مملکت آصف علی زرداری کو وزیراعلیٰ ہائوس کراچی میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کیڈٹ کالج پٹارو کے انتظامی امور، ترقیاتی منصوبوں اور ادارہ جاتی ضروریات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بورڈ آف گورنرز کے سابقہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ادارے کی مسلسل ترقی کے لیے اہم ترجیحات کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی تجاویز پیش کی گئیں۔صدر کو پنشن بقایاجات کی ادائیگی کے لیے مالی معاونت، 1.2 میگاواٹ سولر پاور پلانٹ کی تنصیب، ای آر پی سسٹم کے قیام اور تعلیمی و رہائشی سہولیات کی اپ گریڈیشن بشمول آئی سی ٹی انفراسٹرکچر اور کیڈٹس میس کے انتظامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔انڈوومنٹ فنڈ کے ذریعے وظائف، حکومتی گرانٹ میں اضافے اور تجاوزات کی روک تھام کے لیے بائونڈری وال کی
تعمیر جیسے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ادارے کی طویل مدتی پائیداری کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا جن میں ملازمین کے لیے ہائوسنگ سکیمیں اور ہیلتھ انشورنس کے ساتھ ساتھ کالج سے منسلک ایک ماڈل ہائی سکول کے قیام کی تجویز شامل تھی۔ صدر مملکت کو بتایا گیا کہ 50 فیصد طلبہ کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے جبکہ باقی 50 فیصد ملک کے دیگر حصوں سے آتے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ تعلیم کی فراہمی کو بتدریج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب منتقل کیا جائے اور کلاس رومز میں کمپیوٹرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے نصاب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے پر زور دیا اور کالج کو کسی معروف عالمی ادارے سے الحاق حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے زرعی تعلیم کو بطور مضمون متعارف کرانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور عالمی معیار کے مطابق تعلیم کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز دی۔صدر نے ہدایت کی کہ کالج میں روایتی میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے بجائے ایڈوانسڈ ایچ ایس سی اور ایڈوانسڈ ایس ایس سی کی طرف منتقلی کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔انہوں نے کیڈٹ کالج پٹارو کو اپنے دل کے قریب ایک ادارہ قرار دیتے ہوئے ملک کے لیے اس کی خدمات کو سراہا۔صدر نے کہا کہ اس ادارے نے عوامی خدمات، مسلح افواج اور سول انتظامیہ سمیت مختلف شعبوں میں قائدین پیدا کیے ہیں اور یہ نوجوان طلبہ کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کیڈٹ کالج پیٹارو ان کا مادر علمی ادارہ (Alma Mater) ہے اور اس سے ان کی ذاتی وابستگی رہی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ ادارے کو مزید مضبوط بنانے سے ایسے ہمہ جہت افراد تیار کیے جا سکیں گے جو نظم و ضبط، دیانتداری اور ذمہ داری جیسی اقدار سے لیس ہوں۔ انہوں نے معاشی و سماجی ترقی کے لیے معیاری تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے میرٹ اور کردار سازی پر مسلسل توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔صدر نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ مجوزہ منصوبوں کی بروقت منظوری اور عملدرآمد کے لیے بھرپور تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ مستقل سرمایہ کاری اور مشترکہ عزم کے ذریعے ہی اس ادارے کو ایک اعلیٰ معیار کے مرکز کے طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، رکن سندھ اسمبلی و صدر ویمن ونگ پیپلز پارٹی فریال تالپور، چانسلر ضیاءالدین یونیورسٹی ڈاکٹر عاصم حسین، صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ، رکن قومی اسمبلی ملک اسد سکندر، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سکندر علی شورو، چیف سیکریٹری سندھ، پرنسپل کیڈٹ کالج پیٹارو کموڈور فیصل اقبال قاضی، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری کالجز ایجوکیشن، ڈپٹی کمشنر جامشورو سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

