اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کےرہنما علی محمد خان نے مسلم دنیا میں اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہےکہ امہ اس وقت علاقائی تناؤ اور مشرق وسطیٰ میں تشدد کے درمیان ایک نازک امتحان سے گزر رہی ہے،پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر تہران کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔بدھ کو قومی اسمبلی کے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان-بھارت جنگ کے دوران دکھائی گئی قومی یکجہتی کا ذکر کیا جب حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوئے اور ایک متحدہ جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ اس اجتماعی عزم نے پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کیا اور اس کے مسلح افواج کو دشمن کا مؤثر جواب دینے کے قابل بنایا۔انہوں
نے کہا کہ موجودہ صورتحال اس سے بھی بڑا چیلنج پیش کر رہی ہے،اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف جارحیت خاص طور پر غزہ کی پٹی اور مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے اسرائیلی پالیسیوں کی مذمت کی اور اس پر فلسطینیوں کے خلاف مسلسل تشدد کا الزام لگایا۔ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تناؤ کے دوران پاکستان کے موقف کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے تعریف کی کہ پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر تہران کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت اور عوام کی طرف سے اظہار تشکر اور قدردانی نے پاکستان کے اصول پسندانہ موقف کی عکاسی کی۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو مسلم امہ کی قیادت میں اہم کردار ادا کرنا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی تقسیموں سے بالاتر ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم مقدس مقامات کی حرمت کے تحفظ کے لئے اتحاد ناگزیر ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے ایرانی قوم اور اس کی قیادت کے حوصلے کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے اراکین نے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کرتناؤ کے ادوار میں ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا اور یکجہتی کا اظہار کیا۔علی محمد خان نے کہا کہ علاقائی بحرانوں کے خلاف پاکستان کا ردعمل سیاسی وابستگی کی بجائے قومی مفاد کے زیر اثر رہا ہے۔ انہوں نے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلسل اتحاد کی تلقین کی۔
