اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ آج پوری دنیا میں پاکستان کی قیادت کی تعریفیں ہو رہی ہیں، 1973 اور 1998 کی کامیابیوں کے بعد سیز فائر کرانا پاکستان کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے، مثبت کام اور مقصد کیلئے کی جانے والی کوششوں کا فائدہ یا نقصان نہیں دیکھا جاتا،امن دنیا ، خطے یا ملک کے اندر ہو اس کی کوئی قیمت یا معاوضہ نہیں ہوتا۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا
کہ 1973 میں جب متفقہ آئین منظور ہوا تو یہ پاکستان کیلئےایک بڑی کامیابی تھی، اس کے بعد 1998 میں ایٹمی دھماکے پاکستان کی کامیابی تھی اور 2025 میں بھارت کو شکست دینا بھی پاکستان کی کامیابی تھی اور آج ایک بار پھر دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ رکوانے کا سہرا بھی پاکستان کے سر ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا پاکستان کی قیادت کی تعریفیں کر رہی ہے، پاکستان نے اصول کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کیا، بڑے اصولوں اور مقاصد میں کبھی نفع یا نقصان نہیں دیکھا جاتا، امن دنیا ، خطے یا ملک کے اندر ہو اس کی کوئی قیمت یا معاوضہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خطہ جس صورتحال سے گزر رہا تھا اس کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کو 9 اپریل کے جلسہ کا اعلان نہیں کرنا چاہئے تھا، جب ملک ، قوم اور خطہ حالت جنگ میں ہو تو اس وقت ذاتی مفادات کی بجائے ملک کے دفاع، سلامتی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی نہیں ہونی چاہئے، یہی ہمارا مؤقف ہے،اگر دہشتگردی نہیں ہوتی تو پاکستان کی طرف سے امن و سلامتی کا ہی پیغام ہو گا۔
