اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):منشیات کے مکروہ دھندے پر چلنے والی ناکام افغان طالبان رجیم نے خطے کےلئے خطرات بڑھا تے ہوئے منشیات اور پراکسی دہشت گرد نیٹ ورکس کو ملکی معیشت کاواحد سہارا بنا لیا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد
منشیات و جرائم نے ایک بار پھر افغانستان سے پھیلنے والے جرائم کے سنگین خدشات سے آگاہ کر دیا۔افغانستان انٹرنیشنل میں شائع اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم میں افغانستان سے میتھا مفیٹامین جیسی خطرناک منشیات کی سمگلنگ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ،خطے میں میتھا مفیٹامین کی ضبطگی 2023 کے مقابلے
میں 50فیصد سے زائد رہی جو افغانستان میں بڑھتی پیداوار کا ثبوت ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں منظم جرائم پیشہ گروہوں نے میتھا مفیٹا مین جیسی مصنوعی منشیات کوکاروباری ماڈل بنا لیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جورجٹ گینیون نے کہا کہ افغانستان کا منشیات کا مسئلہ صرف اس ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات
بیرون ملک بھی جا رہےہیں ۔عالمی ماہرین کے مطابق طالبان کے زیر تسلط افغانستان میں منشیات اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ خطے کےلئے سنگین خطرہ بن چکا ہے ، افغانستان میں منشیات کی آمدن دہشت گردی اور مجرمانہ نیٹ ورکس کو ایندھن فراہم کررہی ہے ۔

