اسلام آباد۔:عالمی یومِ تھیٹر کے موقع پر ڈولفن کمیونیکیشن اور پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے اشتراک سے فکر انگیز ڈرامہ ’’خالی اسٹیج‘‘ پیش کیا گیا جس نے اپنے طاقتور پیغام اور فنکارانہ مہارت کے باعث ناظرین کو مسحور کر دیا۔ شاندار پرفارمنس کے بعد ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا جبکہ حاضرین نے عاصمہ اسماعیل بٹ کی تخلیقی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بامعنی اور تخلیقی پیشکشیں نہ صرف تھیٹر میں نئی روح پھونکتی ہیں بلکہ سماجی اقدار اور فکری شعور کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈرامہ محمد وقار عظیم نے تحریر کیا جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پیشکش اسما اسماعیل بٹ نے کی۔ اس ڈرامے میں تھیٹر کی روح، اس کی تاریخ، زوال اور احیاء کو مؤثر اور
جذباتی انداز میں پیش کیا گیا۔ فنکاروں میں لاریب راٹھور، عمران راشدی، کلیم خان، معصومہ شاہ، نور شرارتی، وقاص اور سمرن علی شامل تھے جنہوں نے بھرپور اور دل سے ادا کی گئی پرفارمنس کے ذریعے ناظرین سے خوب داد سمیٹی۔ کہانی ایک نوجوان لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو تھیٹر سے گہرا لگاؤ رکھتی ہے۔ایک خالی اسٹیج پر وہ ماضی کے کرداروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے زندہ ہوتا دیکھتی ہے۔ تاہم جیسے ہی ایک جدید ہدایت کار منظر میں داخل ہوتا ہے، تمام کردار غائب ہو جاتے ہیں۔ لڑکی اور ہدایت کار کے درمیان ہونے والا مکالمہ جدید تھیٹر میں تخلیقی روح کی کمی کو اجاگر کرتا ہے اور اس کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ڈولفن کمیونیکیشن کی سی ای او عاصمہ اسماعیل بٹ کے مطابق ’’خالی اسٹیج‘‘ تھیٹر کے تخلیقی اور فکری پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور ناظرین کو اس کی مستقل اہمیت کا احساس دلانے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ پرفارمنس کے اختتام پر ناظرین نے ڈرامے کو بھرپور سراہا اور کہا کہ اس طرح کی پیشکشیں معاشرے میں فکری شعور اور ثقافتی حساسیت کو فروغ دینے میں نہایت اہم اور ضروری کردار ادا کرتی ہیں۔

