لاہور ( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے سرکاری مراعات اور اخراجات میں فوری کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی جنگی حالات کے اثرات عوام پر منتقل کیے جا رہے ہیں جبکہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں برقرار رکھے ہوئے ہے۔منصورہ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ علامتی اور نمائشی اقدامات سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا، بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نے مہنگائی کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 28 دن کا اسٹاک موجود ہونے کے باوجود پٹرول کی قیمت میں 55روپے اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے، اس اقدام سے قومی خزانہ کو
نہیں صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدہ پہنچا۔امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی میں اضافے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عوام پر ظلم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لیوی کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں، مگر اس مد میں غریب اور متوسط طبقہ سالانہ تقریباً 900 ارب روپے ادا کرنے پر مجبور ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے خریدے گئے لگژری طیارے اور چیئرمین سینیٹ کے لیے مہنگی گاڑی پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ اثاثے فوری فروخت کر کے رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت وزراء اور بیوروکریٹس کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری بھی فوری طور پر روکے۔انہوں نے مزید کہا کہ فری بجلی اور فری پٹرول جیسی مراعات کا خاتمہ معیشت کے لیے مثبت قدم ہوگا، جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 600 فیصد تک اضافہ بھی ناقابل قبول ہے۔ ان کے بقول اشرافیہ کی عیاشیوں کا بوجھ قوم مزید برداشت نہیں کر سکتی۔امیر جماعت اسلامی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرے اور غیر ضروری اخراجات ختم کر کے قومی وسائل کا درست استعمال یقینی بنائے۔
