بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنی تربیت کا اظہار کر ہی دیا ایک اجلاس میں جب اس 71 سالہ بوڑھے برہمن کے سامنے امریکہ ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی کا ذکر ہوا تو جواہر لعل یونیورسٹی دہلی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنے والے بوڑھے برہمن کے اندر سے جاہل، منتقم اور حاسد جے شنکر کود کر باہر آگیا ان کی زبان سے وہی زہریلا مواد جھڑنے لگا جو انہوں نے صدیوں پہلےاپنے سفاک متعصب گرو گھنٹال کوٹلیہ چانکیہ کی فسادی تھیوری سے جذب کیا تھا
بی بی سی کے مطابق جے شنکر کے سامنے ایران تنازعے پر پاکستان کی ثالثی کا زکر ہوا تو سبرامنیم جے شنکر نے بے اختیار کہا کہ انڈیا ایک دلال ملک نہیں بننا چاہتا جو دیگر مُمالک کے پاس جا جا کر پوچھتا پھرے کہ انھیں اس کی خدمات کی ضرورت تو نہیں ہے۔۔۔۔”
اس جملے کو رہنے دیجئے کہ یہ جملہ ایک پی ایچ ڈی اسکالر کا ہے یا سفارتکاری کے میدان میں دہائیاں گزار دینے والے وزیر خارجہ کا ہو سکتا ہے ہا نہیں ۔۔بس اس جملے کے اک اک لفظ سے ٹپکتی کڑھن،جلن،حسد،حسرت اور اذیت دیکھئے لگ نہیں رہا کہ بڑھاپے میں حاملہ ہونے والی کوئی خاتون لیبر روم میں ہے،ایک عالمی تنازعے کے حل کی کوششوں سے ہمسائے کو ملنے والی پذیرائی کے بعد بس اب ان کا بال نوچنا اور تامل ناڈو کے کسی پرانے مندر میں انگاروں پر لوٹنا ہی رہ گیا ہے۔۔۔۔اب آپ کو بتاتے ہیں یہ بوڑھا حاسد جے شنکر کون ہے،سیلانی بے پر کی ہانکے گا نہ کچھ چنڈی خانے سے لائے گا،اسی بھارت سے گواہی لائے گا جس کا یہ حاسد وزیر خارجہ بنا پھرتا ہے بھارت کے سینئر صحافی افتخار گیلانی کے 13 جون 2019 کو لکھے گئے کالم کے مطابق 2004 سے 2007 تک جئے شنکر خارجہ آفس میں امریکہ ڈیسک کے انچارج ہوا کرتے تھے اور ایسے انچارج تھے کہ جن کا نام بار بار امریکہ سفارتی کیبلز میں آیا ہے جس کے مطابق یہ امریکہ کے مخبر تھے،سفارتی مراسلے کے مطابق 25اپریل 2005کو دہلی میں چارج ڈی آفییرز رابرٹ بلیک نے لکھا کہ "جئے شنکر نے ان کو بتایا ہے کہ حکومت ہند نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں کیوبا کے خلاف ووٹ دیا ہے”
19 دسمبر 2005 کو ایک دوسری کیبل میں امریکی سفارت خانہ نے انکشاف کیا کہ جئے شنکر نے انہیں خارجہ سکریٹری شیام سرن کے دورہ امریکہ کے ایجنڈہ کے بارے میں معلومات دی ہیں” یعنی امریکی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں سے پہلے ہی ہندوستان کی سفارتی اسٹرٹیجی امریکن ڈپلومیٹس کی ٹیبل پر تھی
2019 کو لکھے گئے آرٹیکل میں افتخار گیلانی لکھتے ہیں”سب سے زیادہ ہوشربا معلومات بیجنگ میں امریکی سفارت خانہ نے واشنگٹن بھیجیں جس میں بتایا گیا کہ چین میں ہندوستان کے سفیر جے شنکر نے چین کے ہمسایہ ممالک کے تئیں جارحارنہ رویہ کو لگام دینے کے لیے امریکہ کو معاونت کی پیشکش کی ہے۔۔۔۔”
ایک اور کیبل میں اپریل 2005 میں رابرٹ بلیک نے جے شنکر سے ملنے والی معلومات یا سفارتی جاسوسی کے بعد واشنگٹن کو بتایا کہ گوانٹنامو بے کے معاملے پر ہندوستان، جنوبی ایشیائی ممالک کاساتھ نہیں دےگا،جنہوں نے اقوام متحدہ میں ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا مشترکہ فیصلہ کیا تھا
جے شنکر جی! یہ ” دلالی ” تھی یا غداری سفارتکاری تو ہرگز نہ ہوئی آپ تو دلال بنے ہر خدمت بجا لانے کو حاضر تھے کہ مہاراج پرنام! کوئی سیوا لے لیجئے مہاشے کے بھاگ جاگ جائیں گے ۔یہ سب حقائق وکی لیکس کی بدولت آج بھی تاریخ کے میز پر پڑے اخبار میں چنگھاڑتی شہ سرخیوں کی طرح موجود ہیں کوئی بھی پڑھ سکتا ہے اور فیصلہ کر سکتا ہے کہ تامل ناڈو کا یہ برہمن، سفیر تھا دلال یا غدار۔۔۔۔ اور اب یہ جوتوں سمیت پاکستان کی آنکھوں میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں ،کوشش جاری رکھیں آپ کے یہاں تو سات جنم ہوتے ہیں نا ہوسکتا ہے دو چار اور بھی باقی ہوں ہمت نہ ہارنا ۔۔۔۔!!
سیلانی دیکھتا چلاگیا

