بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آج بھی پسماندگی، غربت اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہے۔ یہاں کے غیور اور باوقار عوام صدیوں سے اپنی شناخت، حقوق اور بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے 21ویں صدی میں بھی وہ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے عوام کو نہ مناسب تعلیم میسر ہے، نہ معیاری صحت کی سہولیات، نہ صاف پانی، نہ بجلی، اور نہ ہی بہتر سڑکوں کا نظام۔ کئی علاقوں میں آج بھی انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پینے پر مجبور ہیں، جو اس صوبے کی حالتِ زار کی عکاسی کرتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بلوچستان کے نمائندگان خود اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں چاہے وہ صوبائی اسمبلی میں ہوں، قومی اسمبلی میں یا سینیٹ میں—تو پھر عوام کیوں محروم ہیں؟اصل مسئلہ قیادت کے کردار میں چھپا ہوا ہے۔ ہر انتخابی مہم کے دوران بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں، ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں، اور عوام کو قومیت، مذہب اور جذباتی نعروں کے ذریعے متاثر کیا جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی یہ نمائندگان اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
عوامی خدمت کی جگہ ذاتی مفادات لے لیتے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز میں کرپشن، نوکریوں کی خرید و فروخت، اور اقتدار کے ایوانوں میں مفاہمت کے نام پر عوامی حقوق کا سودا عام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، لیڈر ترقی کرتے ہیں اور عوام مزید پسماندگی کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ایسے ماحول اور پسماندگی کے اندھیروں میں جہاں بلوچستان کے سرداروں نوابوں اور سیاسی ایلیٹ کی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں صرف تاریکی ہی تاریکی ہے ایسے میں روشنی کی ایک نئی کرن سیاست کا آسمان پر طلوع ہوئی ۔ جس نے بلوچستان کے اندھیروں میں امید بن گئی ہیں وہ ہیں محترمہ فرح عظیم شاہ ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی ویمن ونگ کی کم عمری میں صدر بننے والی خاتون جو بلوچستان کی خواتین کی رول ماڈل بن گئیں ہیں
بلوچستان میں عوام کے جس شخصیات امید کی کرن بن کر ابھرتی ہیں۔ محترمہ فرح عظیم شاہ انہی میں سے ایک نام ہے، جنہوں نے سیاست کو ذاتی مفادات کے بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ایک متوسط اور معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والی محترمہ فرح عظیم شاہ نے بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔ یہی احساس انہیں سیاست کے میدان میں لے آیا، جہاں انہوں نے عملی طور پر تبدیلی لانے کا عزم کیا۔
انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد میں عوامی شعور بیدار کرنے، نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار فراہم کرنے، خواتین کو بااختیار بنانے، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ بطور ترجمان وزیراعلیٰ بلوچستان، انہوں نے صوبے کے مختلف علاقوں کوئٹہ، سراوان، جھالاوان، مکران اور رخشان میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کی اور ان کی تکمیل کو یقینی بنایا۔خواتین کی ترقی اور سماجی بہتریمحترمہ فرح عظیم شاہ کی خدمات کا ایک نمایاں پہلو خواتین کی ترقی ہے۔ انہوں نے دستکاری مراکز قائم کیے جہاں خواتین کو ہنر سکھا کر انہیں خودمختار بنایا گیا تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنے خاندانوں کی کفالت کر سکیں۔اسی طرح سریاب جیسے علاقوں میں، انہوں نے اپنی محدود فنڈز کے باوجود صحت، کھیل اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے۔ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے ٹورنامنٹس کا انعقاد اور خواتین کے لیے مواقع فراہم کرنا ان کے وژن کا حصہ رہا۔ یہاں ایک واضح فرق سامنے آتا ہے:ایک طرف وہ سیاستدان ہیں جو اقتدار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں، عوامی وسائل کو لوٹتے ہیں، اور عوام کو تقسیم کرکے اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔دوسری طرف محترمہ فرح عظیم شاہ جیسی قیادت ہے، جو اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے، مشکلات کا مقابلہ کرتی ہے، اور حقیقی معنوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتی ہے۔اصل لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے درد کو اپنا درد سمجھے، ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے، اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرے—نہ کہ وہ جو عوامی اعتماد کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھرتا رہے۔بلوچستان کے مسائل کا حل صرف وسائل میں نہیں بلکہ نیت اور قیادت میں ہے۔ جب تک ایماندار، مخلص اور عوام دوست قیادت سامنے نہیں آئے گی، تب تک حالات میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ عوام خود بھی شعور کا مظاہرہ کریں، اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں، اور ایسے نمائندگان کا انتخاب کریں جو واقعی ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور نیت رکھتے ہوں۔بلوچستان کی سرزمین آج بھی امید رکھتی ہیں ایسی قیادت کی، جو اندھیروں میں روشنی بنے، اور محرومیوں کو ترقی میں بدل دے

