• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیاں، انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش اور عالمی بینک سے مداخلت کے مطالبات میں اضافہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
مارچ 24, 2026
in پاکستان
0
سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیاں، انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش اور عالمی بینک سے مداخلت کے مطالبات میں اضافہ
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پشاور( نمائندہ خصوصی):بین الاقوامی قانون اور پابند دوطرفہ وعدوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے، بھارت کا 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ ایک سوچے سمجھے حملے اور شدید معاندانہ اقدام کے طور پر بے نقاب ہوا ہے جو پاکستان میں وسیع پیمانے پر بھوک، غذائی بحران اور معاشی عدم استحکام پیدا کرنے کےلیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ ہندوتوا بھارتی حکومت کا یہ لاپرواہ اقدام محض پالیسی کی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کی آبی شہ رگ کو کاٹنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدے کو سبوتاژ کر کے بھارت نے خاص طور پر پنجاب اور آزاد کشمیر میں پاکستان کی زراعت، توانائی اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے جبکہ آر ایس ایس کے اس خطرناک ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے جس کا مقصد خوراک کی پیداوار کو مفلوج کرنا اور پاکستان میں طویل المدتی غذائی عدم تحفظ پیدا کرنا ہے۔یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم نے بھارت کی جانب سے گزشتہ سال سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی معاہدوں، اصولوں اور سمجھوتوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے غیر قانونی اقدامات واضح عالمی کنونشنز اور قوانین کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے دائرے میں آتے ہیں۔ ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ اپنی 80 فیصد سے زائد ضروریات کے لیے بڑی حد تک مغربی دریاؤں کے پانی پر منحصر ہے۔ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی بھی مداخل معاشی اور زرعی تخریب کاری سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی براہ راست گندم، چاول اور کپاس جیسی اہم فصلوں کی کم پیداوار کی صورت میں نکلتی ہے جس سے خطے میں خوراک کی فراہمی اور برآمدی استحکام کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے اثرات شدید اور فوری ہیں ۔ پاکستان میں 80 فیصد کاشت شدہ زمین اور 90 فیصد آبپاشی سندھ طاس کے نظام سے منسلک ہونے کی وجہ سے فاشسٹ مودی حکومت کی طرف سے پانی کی مصنوعی بندش سے سندھ اور جنوبی پنجاب میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کے پانی کی قلت اور صحرا زدگی کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے جس سے لاکھوں انسانوں، مویشیوں اور شہد کی مکھیوں کی آبادی کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ پاکستان میں توانائی کا بحران بھی پیدا ہوگا۔ ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ یہ گنجان آباد علاقے جو پہلے ہی موسمیاتی تناؤ، خشک سالی اور بڑھتی ہوئی صحرا زدگی کا مقابلہ کر رہے ہیں، سازشیوں کی جانب سے پاکستان کی زرخیز زمین کو بنجر ریگستان میں بدلنے کے حقیقی خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی جی ڈی پی میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور تقریباً 38 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں خلل ڈالنا محض پانی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی حملہ ہے جو خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا، دیہی غربت کو بڑھا دے گا اور لاکھوں لوگوں کو فاقہ کشی اور خوراک کی محرومی کی طرف دھکیل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف پنجاب سالانہ 20 ملین میٹرک ٹن سے زائد گندم کی پیداوار کے ساتھ پاکستان کی گندم کا بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی کٹائی سے پہلے پانی میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا پابندی قومی پیداوار کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ ابھرا ہے جو عالمی بینک کی ضمانت کے خلاف ہے۔سندھ طاس بحران کو مزید سنگین بناتے ہوئے بھارت کی جانب سے آبی اعداد و شمار روکنے کی اطلاعات ہیں، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے سیلاب اور خشک سالی کے انتظام کی پاکستان کی صلاحیت متاثر ہونے کا امکان ہے جس سے خوراک کے عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور علاقائی کشیدگی کے درمیان لاکھوں لوگ بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی نکالنے کی طرف جبری منتقلی سے زیر زمین پانی کے ذخائر کی کمی اور زمین کی نمکیات (سیم و تھور) میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں، جس سے انسانوں، جنگلی حیات اور شہد کی مکھیوں سمیت جانداروں کے لیے ناقابل تلافی نتائج کے ساتھ ایک سست رفتار ماحولیاتی تباہی پیدا ہو گی۔ ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ بھارت کی بدنیتی پر مبنی حکمت عملی پانی کو جغرافیائی سیاسی آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ایک خطرناک مثال کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے زیر اثر مودی حکومت کے ایسے جابرانہ ہتھکنڈے بالآخر ناکام ہوں گے۔اندرونی محاذ پر پاکستان مہمند، داسو اور دیامر بھاشا ڈیموں جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے پانی کے خطرے کو کم کرنے کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے جن کا مقصد لوگوں اور زراعت کی ضروریات کے لیے پانی کے ذخیرہ اور بجلی کی پیداوار کو بہتر بنانا ہے۔ ماہرین نے بیرونی دباؤ کے خلاف ایک تیز رفتار اور کم لاگت بفر کے طور پر خاص طور پر شمالی علاقوں میں چھوٹے ڈیموں کے منصوبوں کو وسعت دینے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے ڈاکٹر زاہد انور نے آر ایس ایس کے حمایت یافتہ مودی، جنہیں گجرات کے قصاب کے طور پر جانا جاتا ہے، کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بھوک کی طرف دھکیلنے کی ایک جارحانہ کوشش قرار دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں میں پانی کی دستیابی کو کم کرنے سے پاکستان میں خاص طور پر بچوں اور دودھ پلانے والی ماؤں میں غذائی قلت بڑھے گی جس سے یہ ایک مکمل انسانی بحران میں بدل جائے گا۔ سندھ طاس 240 ملین سے زائد لوگوں کی کفالت کرتا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے مربوط آبپاشی کے نظاموں میں سے ایک ہے اور اس میں پانی کا بہاؤ لوگوں کی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اس معاہدے نے پانی کی تقسیم کو یقینی بنایا ہے۔اس لیے اس کی یکطرفہ معطلی نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ پورے خطے کو خطرناک حد تک غیر مستحکم کر رہی ہے۔ ڈاکٹر زاہد انور نے کہا کہ یہ مسئلہ سیاست سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے معاہدے کے ضامن عالمی بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور بھارت کو اپنا غیر قانونی اور اشتعال انگیز فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کی جانب سے پیش کی جانے والی ایسی مثالوں کو آج معمول بنا لیا گیا تو چین جیسے بالائی ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات اپنا سکتے ہیں جس سے پانی ممکنہ طور پر جبر کا عالمی ذریعہ بن سکتا ہے اور بھارت کو اس کا شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ معاہدہ قانونی طور پر پابند ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک ایسا موقف ہے جس کی توثیق ثالثی کی مستقل عدالت ( پی سی اے) کے فیصلے سے ہوئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ بھارت کے مبینہ غیر قانونی اقدامات، بشمول پانی کے بہاؤ میں غیر اعلانیہ رکاوٹیں اور گزشتہ سال سے اہم ڈیٹا روکنا سنگین خلاف ورزیاں ہیں جنہیں بلا روک ٹوک نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری خاص طور پر عالمی بینک کو اب مودی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے بعد اس بات کو یقینی بنانے کےلیے ایک فیصلہ کن امتحان کا سامنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ خاموشی یا بے عملی سے صرف مزید خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور برصغیر کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ ماہرین نے کہا کہ سیاسی اور معاشی تحفظات سے بالاتر ہو کر بھارت کو اس کے غیر قانونی اقدام کا جوابدہ ٹھہرانے کی فوری ضرورت ہے۔ عالمی بینک پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ بین الاقوامی وعدوں کی فوری تعمیل کو یقینی بنائے اور پاکستان کے آبی حقوق کا تحفظ کرے۔

پچھلی پوسٹ

میں ابھی پانچ قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے سے عمران خان نے آواز دی او رکہا کہ اعجاز تم لوگ ورلڈ کپ فائنل میچ ہار چکے ہو : سابق قومی کرکٹر اعجاز احمد کا انکشاف

اگلی پوسٹ

پنجاب میں ٹی بی کے مریضوں کو گھر کی دہلیز پرمفت ادویات فراہم کی جارہی ہے: مریم نواز شریف

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پنجاب میں ٹی بی کے مریضوں کو گھر کی دہلیز پرمفت ادویات فراہم کی جارہی ہے: مریم نواز شریف

پنجاب میں ٹی بی کے مریضوں کو گھر کی دہلیز پرمفت ادویات فراہم کی جارہی ہے: مریم نواز شریف

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper