لاہور۔( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے بروقت اقدامات کی بدولت ملک میں تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں، حکومت عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی، کفایت شعاری مہم کے تحت 50 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ کر دی گئی ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے عوام کا تعاون ضروری ہے۔ہفتہ کو یہاں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیل کے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے بروقت فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی قلت پیدا نہ ہونے کے لیے بھرپور محنت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے کے کئی ممالک راشننگ کی طرف چلے گئے ہیں انہوں نے ایک نظام بنا دیا ہے جہاں تیل دستیاب ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم نے بروقت کمیٹی قائم کی اور خود روزانہ کی بنیاد پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے رہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں تیل کے ذخائر مناسب مقدار میں موجود ہیں جبکہ مستقبل کے کارگوز کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قلت نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وسائل کو ضائع کیا جائے، ملک میں موجود تیل کے ذخائر انتہائی مہنگے ہیں جبکہ خلیجی ممالک سے درآمد ہونے والے تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 158
ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دستیاب تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے مطابق ہوتا ہے اور اس صورتحال میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں تاہم بھرپور کوشش کی گئی ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر گہری تشویش رکھتے تھے اور انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کفایت شعاری اور سادگی کو اپناتے ہوئے عوام پر اضافی بوجھ نہیں ڈالے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم اپنی اپنی وزارتوں کے ذمہ دار ہیں اور کفایت شعاری اقدامات پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہدایت کے مطابق 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گرائونڈ کرنے، تیل کے استعمال میں 50 فیصد کمی اور دیگر بچت اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے تاہم یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے قومی سطح پر تعاون درکار ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ تیل کی بچت کے لئے غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، کار پولنگ کا سسٹم اپنائیں، ایک گاڑی استعمال کریں، جن کے پاس ایک سے زائد گاڑیاں ہیں، وہ چھوٹی کپیسٹی والی گاڑی استعمال کریں تاکہ ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے اور اس مقصد کے لئے پوری قوم کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے اپنی سطح پر اقدامات کیے جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ گزشتہ ہفتے پٹرول کی قیمت میں 50 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے اضافے کی سمری آئی، تاہم وزیرِاعظم نے بچت اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 24 ارب روپے کی خطیر رقم سے عوام پر یہ بوجھ نہیں پڑنے دیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا جس کا مجموعی حجم تقریباً 45 ارب روپے بنتا تھا تاہم یہ رقم بھی ترقیاتی بجٹ سے ایڈجسٹ کر کے عوام کو ریلیف دیا گیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دونوں ہفتوں کو ملا کر وفاقی حکومت نے 69 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا، بصورت دیگر پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 150 روپے تک اضافہ ہو سکتا تھا تاہم یہ اضافہ روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام طویل مدت کے لیے ممکنہ طور پر قابلِ عمل نہیں کیونکہ اس سے غریب کے ساتھ ساتھ امیر طبقہ بھی یکساں طور پر فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت کے مطابق ایسا مؤثر میکنزم وضع کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت صرف غریب اور مستحق طبقات کو ریلیف دیا جائے جبکہ جو افراد اخراجات برداشت کر سکتے ہیں وہ اپنا بوجھ خود اٹھائیں۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو متحد ہو کر تیل کی بچت کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور حکومت کی جانب سے یقینی بنائے گئے ذخائر کو اضافی دستیابی سمجھ کر ضائع کرنے کے بجائے محفوظ رکھنا ہوگا کیونکہ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے اور زرِمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں حکومت اپنا کردار ادا کر رہی ہے وہاں اشرافیہ اور پوری قوم کو بھی آگے بڑھ کر بچت میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافے اور خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر مستقبل کی منصوبہ بندی ضروری ہے، اس لیے ہر پاکستانی کو تیل کی بچت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیرِاعظم نے واضح کیا ہے کہ وہ عید کے موقع پر قوم پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا تاکہ لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کرنا ہوگا اور آنے والے دنوں کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے تاکہ بوجھ مزید نہ بڑھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وزیرِاعظم ذاتی طور پر اس حوالے سے فکرمند ہیں، حکومت نے سب سے پہلے اپنے اخراجات میں کمی کر کے بچت اقدامات پر عملدرآمد کیا جس سے حاصل ہونے والا فائدہ عوام کو منتقل ہوا تاہم اب مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیرِاعظم، فیلڈ مارشل، نائب وزیرِاعظم اور حکومت کی اولین ترجیح عوام کو سہولت فراہم کرنا اور ان کے مفادات کا تحفظ ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ آنے والے دنوں کے لیے تیاری کی جائے اور ایک ذمہ دار قوم ہونے کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔
