کوئٹہ۔ ( نمائندہ خصوصی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے کہاہے کہ بشیر زیب اینڈ کمپنی،بی ایل اے بلوچ وپشتون معاشرے میں اپنے مکروہ مقاصد کے حصول کیلئے خواتین کااحترام ختم کرکے انہیں عام شہریوں کی قتل وغارت کیلئے استعمال کررہی ہیں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہیومن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے خضدار سے تعلق رکھنے والی خودکش بمبار لائبہ کو گرفتارکرلیاہے ،عام بلوچ کو سوچنا پڑے گاکہ وہ کس لاحاصل جنگ میں اپنامستقبل تباہ کررہا ہے جہاں سوائے بربادی کے کچھ نہیں ملنے والا، ایک ذمہ دار حکومت ،ریاست اور فورس کی طرح ہم نے ہمیشہ اپنے قبائلی روایات کا پاس رکھاہے ۔گرفتارخاتون کو گمراہ کر کے خطرناک مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔گرفتار خاتون کو تین ماہ کے لیے ایک بحالی مرکز میں رکھا جائے گا جہاں اس کی مکمل تفتیش کے ساتھ ساتھ ذہنی بحالی (ڈی ریڈیکلائزیشن)کا عمل بھی کیا جائے گا تاکہ
اسے معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میرضیاء اللہ لانگو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر، شاہد رندودیگر بھی موجود تھے ۔میرسرفرازبگٹی نے میر ضیاء اللہ لانگو کو وزیر داخلہ بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ لائبہ نے اپنی زبانی اپنی کہانی شیئر کی ہے ،سیکورٹی فورسز اپنی کارروائیوں میں مختلف وسائل استعمال کرتے ہیں لیکن لائبہ کے کیس میں تمام تر انسانی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی تھی بلوچستان ،خضدار اور زہری کے لوگوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہیومن انٹیلی جنس فراہم کی اور سیکورٹی فورسز نے ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی اور ایک بہت بڑی تباہی سے معصوم لوگوں کوبچایا بلکہ ایک معصوم جان جنہیں جس انداز میں پاکستان کے خلاف اور عام شہریوں کی قتل وغارت کیلئے استعمال کرنا تھا لیکن سیکورٹی فورسز نے کارروائی کر کے بلوچستان کومحفوظ بنایا،میں بلوچستان کے لوگوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایسے معلومات فراہم کیں اوران معلومات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ،میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ میں پہلے دن سے یہ کہتا آرہاہوں کہ بلوچستان کے بلوچ، پشتون معاشرے میں خواتین کا ایک الگ مقام ہے لیکن ان کی اس طرح تذلیل کرکے انہیں اپنے مکروہ مقاصد کیلئے استعمال کیاجانا اور وہاں تک لے جانا جہاں نہ صرف اس انسان کو بلکہ اس کے اہل خانہ کو نقصان پہنچتاہے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچیت کے نام پرکیاہمارامعاشرہ،غیرت، بزرگوں کی روایات
ہمیں اس بات کی اجازت دیتاہے کہ ایسے مکروہ مقاصد کیلئے خواتین کااستعمال کیاجائے ،انہوں نے کہاکہ ہم ایک ذمہ داری حکومت،ریاست اور فورس ہے ،ہم خواتین سے متعلق خاص خیال رکھتے ہیں کہ خواتین کے خلاف کوئی ایسا اقدام نہ اٹھائے کہ خواتین کااحترام کونقصان نہ پہنچیں ،لیکن بدقسمتی سے جس احترام کاہم لاج رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ،بشیر زیب اینڈ کمپنی اور کالعدم تنظیم بی ایل اے نے وہ لاج ختم کردی ہے ،سیکورٹی فورسز کے پاس اب کوئی آپشن باقی نہیں رہا کہ وہ ان گاڑیوں کو بھی چیک کریں جن میں خواتین سفر کررہی ہوں ،میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ بلوچ کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جارہاہے ان بچوں کی ذہن سازی کی جارہی ہے جو پختہ ذہن نہیں ہے اور کیا تشدد سے بلوچستان کو ان کے مکروہ مقاصد حاصل ہونگے ،میں ایک بار پھر واضح کرتاہوں کہ تشدد سے بلوچستان سے متعلق مقاصد کا حصول کسی صورت پورا نہیں ہوگا،پوری بلوچ قوم کو سوچنا ہوگاکہ کس جنگ کی طرف دھکیلا جارہاہے جن میں ایسی معصوم جانوں کو استعمال کیاجارہاہے ،انہوں نے کہاکہ اس معصوم انسانوں کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے اگر خودکش ہوتی ہے تو پھر ان متاثرین پر کیا گزرنا تھا کتنے انسان لقمہ اجل بننے تھے،بہت عرصے بعد سیکورٹی فورسز کو ہیومن انٹیلی جنس ملنا شروع ہوئی ہے اس لاحاصل جنگ میں سوائے کشت وخون کے کچھ ملنے والا نہیں ہے ،اس جنگ میں انفراسٹرکچر کی تباہی،سکولوں کی بندش وقت کی ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ،اس کارروائی پر سیکورٹی فورسز کو شاباش دیتا ہوں ،لائبہ کو تین ماہ کیلئے انٹروگیشن سینٹر میں رکھیں گے ،انہوں نے کہاکہ ہماری کسٹڈی میں خواتین پولیس کی موجودگی میں تمام تر کارروائی مکمل ہوگی اور کسی قسم کی تشدد یا ہراسمنٹ کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کوئی کمپرومائز ہوگا، ہم اور دہشتگردوں میں یہی فرق ہے کہ ہمارے معصوم لوگوں کو شہید کرنے کیلئے آنے والی خاتون کو عزت واحترام دے رہے ہیں ،میں نے اپنا پہلا سوال یہی کیاکہ دوران گرفتاری آپ کو کسی قسم کی تشدد و ہراسمنٹ کاسامنا تو نہیں کرناپڑا ،گرفتار خاتون کو تین ماہ کے لیے ایک بحالی مرکز میں رکھا جائے گا جہاں اس کی مکمل تفتیش کے ساتھ ساتھ ذہنی بحالی (ڈی ریڈیکلائزیشن)کا عمل بھی کیا جائے گا تاکہ اسے معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکےحکومت بلوچستان اور صوبے کی عوام کی طرف سے سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ،کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ کون بی ایل اے کیلئے کام کررہاہے لیکن ہم سب نے مل کرمعاشرے کو بہتری کیلئے جانا ہے ۔صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے بیانیے پر مضبوطی سے قائم ہے اور تمام فیصلے آئین و قانون کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں بھرتیوں کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر جاری ہے اور حکومت میرٹ کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو مثبت سمت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ انہیں دہشت گردی اور شدت پسندی سے دور رکھا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایسے عناصر سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں جو سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہوں۔ تاہم، انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ موجودہ صورتحال کوئی سیاسی مسئلہ ہے، ان کے مطابق یہ ریاستی رٹ اور امن و امان کا معاملہ ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر حکومت نے عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ دعوی بھی کیا کہ ریاست کسی کو لاپتہ نہیں کر رہی، جبکہ بعض عناصر اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض کالعدم تنظیمیں لوگوں کو اغوا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی تین بٹالین طلب کی گئی ہیں، جو پہلے بھی ملک کے مختلف حصوں میں خدمات انجام دیتی رہی ہے۔افغان مہاجرین سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے اور انہیں باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چالیس سال سے مہاجرین کی میزبانی کی ہے، تاہم اب بعض دہشت گرد عناصر ہمسایہ ملک افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے شدت پسند تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین کو خودکش حملوں جیسے اقدامات میں استعمال کرنا نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بلوچ روایات کے بھی منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس کا انجام صرف خونریزی ہے۔آخر میں وزیراعلی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی اور صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

