اسلام آباد (نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان پر کابل میں منشیات کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنانے کے الزام اور جھوٹے دعوے کو سراسر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم یہ الزام لگا کر مزید جھوٹ بول رہا ہے کہ پاکستان نے کابل میں منشیات کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنایا، پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری جنگ میں صرف ان عسکری اور دہشت گرد اہداف بشمول افغان طالبان رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا حوصلہ افزائی کے لئے براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔منگل کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنی
ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ کابل اور ننگرہار میں 16 مارچ 2026ء کی رات کو کئے گئے حملے قطعی، دانستہ اور پیشہ وارانہ تھے، کسی ہسپتال، کسی منشیات کی بحالی کے مرکز اور کسی شہری سہولت کی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اہداف میں فوجی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا جس میں گولہ بارود اور تکنیکی آلات کے ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور پاکستان کے خلاف دشمنی کی سرگرمیوں سے منسلک دیگر تنصیبات شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ روایت ہے تمام چھ حملوں کو فوری طور پر وزارت اطلاعات کی طرف سے ویڈیو فوٹیج کے ساتھ میڈیا کو فراہم کیا گیا جس سے اہداف کی نوعیت سب کے لئے واضح ہو گئی۔فراہم کردہ ویڈیوز و تصاویر شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔ کابل میں آگ کے شعلے اور ثانوی دھماکے مزید اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پروپیگنڈہ ایک ایسی حکومت کی طرف سے آرہا ہے جس کے عہدیداران نے بار بار جھوٹے بیانات، جھوٹے دعوئوں، پہلے کی پوسٹوں کو منتخب ڈیلیٹ کرنے، سامعین کو گمراہ کرنے اور سچائی کو چھپانے کے لئے پرانی تصویروں کی گردش پر انحصار کیا
ہے، ان کا تازہ ترین الزام دھوکہ دہی کی بوسیدہ روایت کا حصہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے، پاکستان ،خطے اور دنیا کو افغان طالبان حکومت کے زیر اثر علاقے سے دہشت گردی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے، یہ خطرہ اور بھی وحشیانہ ہو گیا ہے، منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کا خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کے لئے استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ ہم اپنے شہریوں کے دفاع، دہشت گردی کی صلاحیت کو کم کرنے اور سرحد پار سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے کے لئے ہر ضروری اقدام کرتے رہیں گے۔
