اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی) :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دیتے ہوئے اسے چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کی طرز پر زرعی تحقیق کے حوالے سے اعلیٰ تحقیقی ادارہ بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ زرعی تحقیق کا زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے کے فروغ میں کلیدی کردار ہے۔منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پی اے آر سی کے امور پر اجلاس ہوا ۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے
معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹائم لائن کے ساتھ پی اے آر سی کی تنظیم نو کے لئے جامع پلان تیار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق کا زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے کے فروغ میں کلیدی کردار ہے۔اجلاس کو پی اے آر سی کو زرعی تحقیق کے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک فعال ادارہ بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ قومی غذائی ضروریات پوری کرنے اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے پی اے آر سی کو ایک فعال ادارہ بنانے کیلئے گورننس ڈھانچے میں اصلاحات ، بہترین تحقیقی عملے کی خدمات، بین الاقوامی شراکت داری، صوبائی حکومتوں کے ساتھ بہتر روابط اور کارکردگی کے واضح اہداف اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں ۔پی اے آر سی کے تحت کام کرنے والے تمام تحقیقی مراکز کو یکجا کرکے پانچ سنٹر آف ایکسیلنس بنائے جائیں گے ۔ یہ سنٹرز زیادہ پیداوار والے بیج، اعلیٰ نسل کے مویشی، پریسیشن ایگریکلچر، فارم میکانائزشن اور اس میں اے آئی کا استعمال اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لئے فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں تحقیق کا کام کریں گے، زرعی تحقیق کو انڈسٹری کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
